Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سوشل میڈیا دماغی تناؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے؟

سوشل میڈیا کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، جہاں یہ ہمیں دنیا سے جڑنے میں مدد کرتا ہے، وہیں یہ ہمیں ہر وقت ہائی الرٹ بھی رکھتا ہے اور دنیا سے جڑے رہنے کا احساس بھی ہمیں بعض اوقات تناؤ کا احساس دلا سکتا ہے۔

ہر وقت دنیا سے جڑے رہنے کی وجہ سے ہمارا اعصابی نظام ہائی الرٹ رہتا ہے جو انسانی دماغ اور جسم پر دباؤ ڈال سکتا ہے لیکن ٹیکنالوجی سے جان بوجھ کر وقفہ انسانی صحت کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

انسان اکثر سوشل میڈیا پر حدود طے کرنے میں ناکام رہتا ہے اور یہ دوسروں کو ہماری زندگی تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

آج کے دور میں ہر انسان ہر وقت اسکرین پر چپکا رہتا ہے، اور اس کی وجہ سے وہ اپنے موجودہ لمحات سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا جو کہ کچھ حد تک دماغی تناؤ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

اس طرح انسان دوسروں کے سوشل میڈیا پوسٹ سے اپنی زندگی کا معیار طے کرنے لگتا ہے اور مسلسل اپنی زندگیوں کا دوسروں کی زندگیوں سے موازنہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جس کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کی زندگی سے جڑے رہنے کی خواہش کے ساتھ احساس کمتری برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بہت سے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا دماغی تناؤ کا باعث بنتا ہے اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا ڈپریشن سے جڑا ہوا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، لیکن کوئی بھی ان ردعمل سے محفوظ نہیں ہے۔

انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ سوشل میڈیا صرف اپنے آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کی جھلک دکھا سکتا ہے، اور صرف ان خبروں اور رویوں کی عکاسی کرے گا جس کے متعلق انسان خود جاننے کا خواہشنمد ہوگا، یہ تاثر اور موازنہ کے لحاظ سے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کو اپنی زندگی سے ختم کرنے کے بجائے، یہ سمجھنا سب سے اہم ہے کہ سوشل میڈیا کس طرح ڈپریشن کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ اس سے وقفہ لینا بہت ضروری ہے۔

اس کے علاوہ اپنے موبائل میں سوشل میڈیا نوٹیفکیشن کو بند کردیں اور لائسنس یافتہ تھراپسٹ اہداف میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں، مشکل جذبات سے نمٹنے کے لیے تجاویز دے سکتے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں