عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے آنے والے سالوں میں انسانی جانوں کو شدید خطرات کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے شدید گرمی، فضائی آلودگی اور مہلک متعدی بیماریوں کے بڑھتے پھیلاؤ کے سبب انسانیت کو درپیش خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 تک درجہ حرارت میں 2 ڈگری سیلسیز اضافہ ہو جائے گا، اس کے بعد ہر سال گرمی سے پانچ گنا زیادہ لوگ مر سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2030 اور 2050 کے درمیان ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ اضافی اموات ہوسکتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت پر تباہ کن اثرات کو روکنے اور موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی لاکھوں اموات کو روکنے کے لیے پیرس معاہدے کے تحت عالمی حدت کو 1 اعشاریہ 5 ڈگری سیلسیس کے ہدف تک محدود رکھا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرہ بچوں، خواتین، بوڑھوں، تارکین وطن اور کم ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو ہوگا، جنہوں نے سب سے کم گرین ہاؤس گیسز خارج کی ہیں۔




















