Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مسلسل جاگنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ مسلسل جاگنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے۔

حال ہی میں الرجل میں شائع ایک مضمون کے مطابق نیند جسم کی نشوونما کے لیے فطری عمل ہے جو جسمانی قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے بلکہ جسم کو قوت و توانائی بھی ملتی ہے۔

 تاہم بیداری کے مسلسل 48 گھنٹے گزرنے کے بعد ہر اضافی گھنٹہ جسم کی قوت مدافعت کو کمزور بناتا ہے جس کے باعث مختلف نوعیت کی بیماری کے جراثیم جسم پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو قوت مدافعت میں کمی کی وجہ سے ابھرتے ہیں۔

24 گھنٹے مسلسل جاگنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

مسلسل 24 گھنٹے کی بیداری کوئی اتنی بڑی بات نہیں تاہم اس سے زیادہ دورانیہ ہونے کی صورت میں درج ذیل صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

۔ جلدی غصہ آنا

۔ تھکان

۔ فیصلہ کرنے میں دشواری

۔ یادداشت کی کمی

۔ بصارت اور سماعت میں کمی

۔ رعشہ یا بدن کا کانپنا

مسلسل 24 گھنٹے کی بیداری کی وجہ سے خون میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے جیسا کہ کسی الکوحل پینے والے کے خون میں الکوحل کی سطح کا ٹیسٹ کرانے پر وہ 0.10 فیصد ہوتا ہے۔

مسلسل بیداری کے 36 گھنٹے بعد جسم کی حالت؟

 سوئے بغیر مسلسل 36 گھنٹے تک جاگتے رہنے سے جسم پر شدید اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے جسم میں کچھ ہارمونز کی سطح متاثر ہونے لگتی ہے جیسے کہ کورٹیزول، انسولین اور گروتھ ہارمونز وغیرہ شامل ہیں۔ ان ہارمونز میں ہونے والی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں۔

۔ بھوک

۔ جسمانی درجہ حرارت

۔ مزاج کا خراب ہونا

۔ میٹا بولزم

درج بالا اثرات کے علاوہ مزید مسائل بھی ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں۔

۔ انتہائی درجے کی تھکاوٹ

۔ ہارمونل عدم توازن

۔ حوصلے کی پستی

۔ خطرناک فیصلے کرنا

۔ توجہ میں کمی (بات کرتے وقت الفاظ کے انتخاب میں دشواری )

۔ جسمانی حرارت کے توازن کا بگڑنا اور بلڈ پریشر میں اضافہ

 مسلسل بیداری کے 48 گھنٹے؟

یہ بہت ہی مشکل امر ہے کہ انسان مسلسل جاگنے کے 48 گھنٹے بعد بھی بیدار رہ سکے اس دوران انسان غیرارادی طور پر نیند کے جھونکے میں آ سکتا ہے جس کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہو سکتا ہے۔ یہ ہلکی سے جھپکی غیرارادی ہو سکتی ہے جس کے بعد انسان ذہنی الجھن اور مشکل صورتحال سے گزر سکتا ہے۔

یہاں سب سے بری خبر یہ ہو سکتی ہے کہ مسلسل 48 گھنٹے بیدار رہنے کے بعد قوت مدافعت کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اس حوالے سے نیند پر تحقیق کرنے والے ایک جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل بیداری سے جسمانی قوت مدافعت میں ہونے والی کمی سے کینسر سیلز سے لڑنے والے خلیات کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کینسر سیلز طاقت ور ہو جائیں گے۔

مسلسل بیداری کے 72 گھنٹے کے بعد کیا ہوتا ہے؟

مذکورہ صورت میں نیند آپ کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس سٹیج پر پہنچنے کے بعد آپ اپنی مرضی کے بغیر نیند کی آغوش میں بھی جا سکتے ہیں۔