درمیانی عمر کے لوگوں میں نیند کی کمی کا بڑا نقصان سامنے آ گیا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق درمیانی عمر میں نیند کی کمی بڑھاپے میں دماغی تنزلی بشمول یادداشت اور سوچنے کے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ 30 یا 40 سال کی عمر میں نیند کے مسائل کا سامنا کرنے سے دماغی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 526 افراد کو شامل کیا گیا تھا، تحقیق کے آغاز پر ان افراد کی اوسط عمر 40 سال تھی اور پھر ان کی صحت کا جائزہ 11 سال تک لیا گیا۔ اس عرصے میں ان افراد کی نیند کے دورانیے اور معیار کو بھی دیکھا گیا۔
تحقیق میں عمر، جنس، تعلیم اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے دریافت کیا گیا کہ ناقص نیند کے شکار افراد میں دماغی تنزلی کا خطرہ دوگنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اس حوالے سے محققین نے کہا کہ درمیانی عمر میں نیند اور دماغی صحت کے درمیان تعلق نظر آتا ہے، درمیانی عمر میں نیند کا معیار دماغی صحت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔




















