آج ہم آپکو بتائیں گے کہ پھیپھڑوں کی صحت کے لیے بہترین اور بدترین غذائیں کونسی ہوتی ہیں۔
بہترین غذائیں
سالم اناج، چنے، پھلوں، سبزیوں، دالوں اور گریوں میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ غذائی جز ہمارے پھیپھڑوں کے لیے بہترین ہوتا ہے۔
فائبر کے زیادہ استعمال سے پھیپھڑوں کے افعال بہتر ہوتے ہیں۔
کافی
کافی پینے کی عادت پھیپھڑوں کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
کافی پینے کی عادت اور صحت مند پھیپھڑوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔
اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہے جو ورم کش جز ہے جبکہ اس گرم مشروب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بھی ورم کی روک تھام کرتے ہیں۔
سالم اناج
سالم اناج پھیپھڑوں کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔
بھورے چاول، سالم گندم کی روٹی، پاستا اور جو وغیرہ میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ اناج کی یہ اقسام اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش بھی ہوتی ہیں۔
اسی طرح ان میں موجود وٹامن ای اور فیٹی ایسڈز بھی پھیپھڑوں کی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
بیریز
اسٹرا بیری اور بلیو بیری میں ایسے نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔
بیریز میں موجود anthocyanin نامی مرکب عمر بڑھنے کے ساتھ پھیپھڑوں میں آنے والی تنزلی کی رفتار سست کرتا ہے۔
سبز پتوں والی سبزیاں
پالک، ساگ اور دیگر سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔
دودھ یا اسے بنی مصنوعات
دودھ، پنیر، دہی اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات کے استعمال سے پھیپھڑوں کے کینسر سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
دودھ یا اس سے بنی مصنوعات ورم کش ہوتی ہیں جس سے پھیپھڑوں کے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
البتہ دمہ یا پھیپھڑوں کے دیگر مسائل کے شکار افراد کو دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
ٹماٹر
ٹماٹر میں لائیکو پین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ موجود ہوتا ہے جو پھیپھڑوں کے لیے مفید ہوتا ہے۔
اگر آپ دمہ کے مریض ہیں تو ٹماٹر کھانے یا اس سے بنی مصنوعات کے استعمال سے سانس کی نالی کا ورم کم ہوتا ہے۔
لائیکوپین کے استعمال سے پھیپھڑوں کے افعال میں تنزلی کی رفتار بھی گھٹ جاتی ہے، درحقیقت یہ فائدہ ان افراد کو بھی ہوتا ہے جو تمباکو نوشی کے عادی ہوتے ہیں۔
بدترین غذائیں
پراسیس گوشت
پراسیس گوشت اور پھیپھڑوں کی ناقص صحت کے درمیان تعلق ثابت ہوا ہے۔
گوشت کو پراسیس اور محفوظ کرنے کے لیے نائٹریٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے پھیپھڑوں میں ورم اور تناؤ بڑھتا ہے۔
میٹھے مشروبات
جو بالغ افراد ہر ہفتے 5 یا اس سے زائد سافٹ ڈرنکس کا استعمال کرتے ہیں، ان میں پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ کافی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اگر بچے اتنی مقدار میں میٹھے مشروبات کا استعمال کریں تو دمہ جیسے مرض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
نمک کا زیادہ استعمال
اگر آپ غذا میں نمک کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال کرتے ہیں تو یہ عادت پھیپھڑوں کے امراض کا شکار بنا سکتی ہے۔
غذا میں نمک کے زیادہ استعمال سے پھیپھڑوں کے طویل المعیاد امراض کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ دمہ کی شکایت ہونے پر اس کی علامات کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
الکحل
الکحل کا استعمال جسم کے دیگر حصوں کی طرح پھیپھڑوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے دمہ، نمونیا اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔




















