یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں مگر ذہنی صلاحیت کو عروج پر پہنچانے کے لیے کوئی جادوئی گولی تو دستیاب نہیں تاہم کچھ عادتیں ضرور یہ کمال کرسکتی ہیں۔
چہل قدمی کریں
کافی دیر تک بیٹھے رہنے سے ہمارے دماغ میں خون کی گردش درست طریقے سے نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے دماغ پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یادداشت کمزور ہوتی ہے۔
آگر آپ اپنی یاداشت کو کمزور ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ روزانہ 15 سے 30 منٹ کی چہل قدمی کو اپنی زندگی کا حصہ لازمی بنائیں۔
رات دیر تک نہ جاگیں
آج کل رات بھر یا رات دیر تک جانے کا رواج بہت عام ہوگیا ہے جس کے سبب نیند پوری نہیں ہوتی۔
نیند کی کمی علمی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے یادداشت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔
اسکرین کا استعمال کم کردیں
موبائل، کمپیوٹر اور دیگر ٹیکنالوجی والے گیجٹس کا استعمال نہ صرف آنکھوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ دماغ کی تخلیقی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔
![]()
ضرورت سے زیادہ اسکرین کا استعمال ہمارے موڈ کی خرابی، تھکن اور بے خوابی کا سبب بن سکتا ہے۔
پانی کا زیادہ استعمال کریں
جسم کے ساتھ ساتھ پانی دماغ کیلئے بھی ایک اہم جز ہے لیکن ہم روز مرہ کی سرگرمیوں میں اکثر پانی پینا بھول جاتے ہیں، پانی کی کمی بھی یادداشت اور توجہ کو متاثر کر سکتی ہے۔

ناشتہ لازمی کریں
صبح سویرے صحت مند ناشتہ کرنے سے دماغ کو توانائی ملتی ہے جس سے دن بھر اچھا گزرتا ہے۔

ناشتہ نہ کرنے سے جسمانی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں، اسی لیے ضروری ہے کہ فائبر، پروٹین اور صحت مند چکنائی سے بھرپور متوازن ناشتے کا انتخاب کریں۔




















