Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سائنسدانوں نے کینسر کی خطرناک قسم کے لیے نئی دوا بنا لی

سائنسدانوں نے ایک ایسی دوا بنائی ہے جس سے کینسر کی خطرناک قسم کا علاج کرنا ممکن ہے۔

ماہرین کی ایجاد کی گئی دوا نے مریضوں کی زندگی کو اوسطاً 1.6 ماہ تک بڑھایا جبکہ 3 سال کے عرصے میں یہ شرح 4 گُنا تک بڑھتی دیکھی گئی۔

محققین نے بتایا کہ رسولی کی غذا کی فراہمی کو روک کر بیماری کا علاج کرنے والی یہ دوا 20 سالوں میں میسوتھیلیوما کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی دوا ہے۔

میسوتھیلیوما کینسر کی وہ قسم ہے جو اعضاء کے سطح کے کناروں پر بالخصوص پھیپھڑوں کے کناروں پر واقع ہوتی ہے، جس کا تعلق عموماً ایسبیسٹوس کے منکشف ہونے سے ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں ہر سال 2700 نئے میسوتھیلیوما کے کیسز رونما ہوتے ہیں جبکہ ہر سال تقریباً 2400 اموات واقع ہوتی ہیں۔

صرف 2 فیصد مریض ہی بیماری کی تشخیص کے بعد 10 سال کے بعد تک زندہ رہتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ان مریضوں کا ایک سال تک معائنہ کیا گیا۔

وہ مریض جنہیں ADI-PEG20 دوا اور کیموتھراپی دی گئی ان کی زندگی میں اوسط اضافہ 9.3 ماہ رہا۔

ان کے مقابلے میں جن مریضوں پلیسبو اور کیموتھراپی دی گئی ان کی بقا کا دورانیہ 7.7 ماہ تک دیکھا گیا۔