دنیا میں بہت سارے ممالک مارچ میں گھڑیاں ایک گھنٹے پیچھے جبکہ نومبر میں دوبارہ آگے کر دیتے ہیں، تاکہ اس دوران دن کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے، تاہم لائٹ سیونگ کا یہ عمل صحت کو کئی طرح سے متاثر کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کی روشنی کی بچت دل کے دورے، کار حادثات کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ایک گھنٹہ پیچھے کیا جاتا ہے تو نیند سے لے کر کھانا پینے تک کا سارا نظام ایک ساتھ متاثر ہوتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈے لائٹ سیونگ ٹائم صحت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہو سکتا ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اس تبدیلی کے اگلے ہی روز دل کے دورے میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے جبکہ اس کے چند دنوں بعد فالج کی کیسز میں بھی اضافہ نوٹ کیا جاتا ہے۔

میامی یونیورسٹی میں ہائی بلڈ پریشر کی ماہر ماریا ڈیلگاڈو لیلیور نے کہا ہے کہ ہم واقعی یہ نہیں جانتے کہ دن کی روشنی کی بچت کے وقت میں تبدیلی کے دوران دل کے دورے اور اسٹروک میں اضافہ کیوں ہوتا ہے۔ تاہم یہ ممکنہ طور پر جسم کی اندرونی گھڑی، یا اس کے سرکیڈین تال میں خلل کے ساتھ جڑا ہواہے، اور اگر کسی کو پہلے ہی دل کا مرض ہے تو لائٹ سیونگ ٹائم کے دوران اس کے لیے یہ خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح نیند کی کمی ٹریفک حادثات کے خطرے کو 6 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔
وقت کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی نیند کی کمی شریانوں کے سخت ہونے کا باعث بن سکتی ہے، جسے ایتھروسکلروسیس کہا جاتا ہے، ساتھ ہی موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر سے پیدا ہونے والے مسائل میں اضافہ، اور خواتین میں دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی یا ایٹریل فیبریلیشن بھی جنم لے سکتا ہے۔
تاہم آپ اپنی روزمرہ کی عادات میں چند چھوٹی تبدیلیاں لا کر نیند کے معیار اور مجموعی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ سونے سے قبل اسکرین دیکھنے کے بجائے کو ئی کتاب پڑھ لیں اور موبائل فون کو دوسرے کمرے میں رکھیں۔
الارم بندنہ کریں
الارم کو بند کر کے کچھ دیر سونے سے گریز کریں اور الارم کمرے میں لگانے کی کوشش کریں تاکہ اسے بند کرنے کے لیے آپ کو بستر سے اٹھنا پڑے۔
قدرتی روشنی کو ترجیح دیں
اپنے جسم کی اندرونی گھڑی کو ریگولیٹ کرنے اور پر سکون نیند کے لیے دن کے وقت قدرتی روشنی کی زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں۔ قدرتی سورج کی روشنی حاصل کرتے ہوئے جسمانی سرگرمی کو فروغ دینے کے لیے صبح اٹھتے وقت چہل قدمی کرنے کی کوشش کریں۔
ایک صحت مند، متوازن غذا کھائیں
فائبر سے بھرپور سبزیاں، پھل، پھلیاں اور سالم اناج کھائیں جو دل کے ساتھ مجموعی صحت کو بہتر بنائیں اور اپنی کیلوریز کو متوازن رکھیں۔
مشروبات
بہت زیادہ میٹھے اور کیفین سے بھرپور مشروبات استعمال نہ کریں کیونکہ یہ رات کی نیند کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوپہر کی نیند کو محدود کریں
دن میں لمبی نیند لینے سے گریز کریں کیونکہ یہ رات کی نیند میں رکاوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔
شام میں ٹیکنالوجی کواستعمال نہ کریں
شام میں اسکرین ٹائم کو محدود کریں کیونکہ ان سے نیلی روشنی خارج ہوتی ہے جو آپ کے سرکیڈین تال اور میلاٹونن کے خراج کو متاثر کر سکتی ہے۔ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل تمام اسکرین سے دور رہیں ۔