آج ہم آپکو بتائیں گے کہ مختلف شفٹوں میں ملازمت کرنے سے صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جوانی میں 9 سے 5 کی بجائے دیگر شفٹوں میں کام کرنے سے سے درمیانی عمر میں خراب صحت کا امکان بڑھتا ہے۔
جی ہاں، تحقیق میں 7 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جو 30 برسوں کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔
تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ جوانی میں ملازمت کے اوقات سے 50 سال کی عمر میں صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ ملازمتوں سے نیند، جسمانی صحت اور ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ ملازمت کے اوقات کا شیڈول نہ ہونے اور ناقص نیند، جسمانی تھکاوٹ اور ذہنی مسائل کے درمیان تعلق موجود ہے۔
محققین کے مطابق روزگار سے ہمیں اچھی زندگی گزارنے کے لیے وسائل ملتے ہیں مگر کام کا زیادہ دورانیہ یا شفٹوں میں کام کرنا طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
ایسے افراد جن کے کام کرنے کا کوئی شیڈول نہیں ہوتا یا شام اور رات کی شفٹ کرتے ہیں، وہ کم سوتے ہیں۔
نیند کی کمی سے 50 سال کی عمر تک ڈپریشن کی علامات کو رپورٹ کیے جانے امکان بڑھتا ہے۔
20 سال کی عمر میں صبح کے روایتی اوقات یعنی 9 سے 5 بجے تک کام کرنے والے اگر 30 سال کی عمر کے بعد مختلف شفٹوں میں کام کرنے لگے، تو ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر زیادہ سنگین اثرات مرتب ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہماری ملازمت کے اوقات بھی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔




















