Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ورزش نہ کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ورزش نہ کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو آئیے ہم آپکو بتاتے ہیں۔

قبض کا سامنا

جو افراد اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، ان میں قبض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جسمانی سرگرمیاں بڑھانے سے قبض سے ریلیف مل سکتا ہے۔

سانس پھول جانا

ورزش ہمارے پھیپھڑوں کو مضبوط بناتی ہے اور اس سے دوری ان مسلز کو کمزور کرتی ہے جو پھیپھڑوں کو سانس لینے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں روزمرہ کے کاموں کے دوران بھی سانس پھول جاتا ہے۔

انزائٹی اور ڈپریشن

ورزش سے دوری صرف جسمانی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ دماغی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 ورزش نہ کرنے سے ڈپریشن اور انزائٹی کی شدت بڑھ جاتی ہے جبکہ چڑچڑا پن طاری ہو جاتا ہے۔

چہل قدمی، جاگنگ یا سوئمنگ جیسی ورزشیں مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہیں اور ڈپریشن سے بچنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔

تھکاوٹ

ورزش کرنے سے جسمانی ٹشوز کو آکسیجن اور غذائی اجزا کی فراہمی بڑھتی ہے۔

اس کے مقابلے میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے جسمانی ٹشوز کو مناسب مقدار میں آکسیجن اور غذائی اجزا نہیں مل پاتے۔

میٹابولزم سست ہو جاتا ہے

جسمانی طور پر سست طرز زندگی کے نتیجے میں میٹابولزم کے افعال متاثر ہوتے ہیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ورزش کرنے سے میٹابولزم بھی تیز ہوتا ہے، درحقیقت آپ جسمانی طور جتنے زیادہ متحرک ہوں گے، میٹابولزم اتنی زیادہ کیلوریز جلائے گا۔

نیند کم آنا

اگر اکثر راتوں کو نیند پوری نہیں ہوتی تو یہ بھی ورزش نہ کرنے کی ایک نشانی ہے۔

دن میں جسمانی طور پر متحرک رہنے سے اچھی نیند کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے۔

درحقیقت ورزش کرنے سے رات کو بستر پر لیٹنے کے بعد جلد سونے میں مدد ملتی ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

یادداشت کمزور ہوتی ہے

ورزش کرنے سے جسم میں ایسے کیمیکلز کی سطح بڑھتی ہے جو یادداشت کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

جسمانی سرگریوں سے دماغ کی جانب خون کی روانی بڑھتی ہے، جس سے مختلف دماغی افعال جیسے سوچنے، یادداشت اور فیصلہ سازی کو فائدہ ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر بڑھنا

زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کی عادت سے امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ورزش نہ کرنے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے جو کہ امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والا اہم عنصر ہے۔

بلڈ شوگر میں اضافہ

جسمانی سرگرمیوں سے دوری کے نتیجے میں جسم کے اندر بلڈ شوگر کی سطح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ورزش کو معمول بنانے سے ہمارے جسم کے لیے بلڈ گلوکوز کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہو جاتا ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

کمر درد

بہت زیادہ وقت تک بیٹھنے سے کمر کے مسلز، گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر تناؤ بڑھتا ہے اور اگر کمر آگے جھکا کر بیٹھتے ہیں تو پھر بدترین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ہماری کمر کو زیادہ وقت بیٹھنا پسند نہیں تو ہر آدھے گھنٹے بعد ایک یا 2 منٹ کے لیے چہل قدمی کریں۔

زیادہ بھوک لگنا

ویسے تو سوچا جاتا ہے کہ زیادہ ورزش کرنے والے افراد کو بھوک بھی زیادہ لگتی ہے، مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔

درحقیقت ورزش جیسے چہل قدمی یا جاگنگ سے کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے کیونکہ جسم میں بھوک کا احساس دلانے والے ہارمونز کی سطح گھٹ جاتی ہے۔