معدے کو دوسرا دماغ کہا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آنتوں کی صحت آپ کی جسمانی اور دماغی صحت تک ہر چیز کو متاثر کرتی ہے تاہم ایک تحقیق کے مطابق یہ آپ کے نوزائیدہ بچے کی نشوونما پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ نتائج ایک نئی تحقیق میں سامنے آئے ہیں جس کے لیے روم میں موجود یورپی مالیکیولر بائیولوجی لیبارٹری کے سائنسدانوں نے 28 چوہوں کا اینٹی بائیوٹکس سے علاج کیا واضح رہے کہ اینٹی بایوٹکس آنتوں میں جرثوموں کی مقدار کو دس گنا تک کم کر سکتی ہے۔

اینٹی بایوٹکس دیئے جانے والے ان چوہوں کے ساتھ، ایسے 26 چوہوں جنہں اینٹی بائیوٹکس نہیں دی گئی تھی، ان دونوں کو ان خواتین چوہیوں کے ساتھ ملایا گیا جس سے 400 سے زیادہ بچے پیدا ہوئے۔
تحقیق کے نتائج نے سائنسدانوں کو حیران کردیا کیونکہ ایسے تمام چوہے جنہیں اینٹی بایوٹکس دی گئی تھی ان سے جنم لینے والے بچوں کا نہ صرف پیدائش کے وقت وزن کم تھا بلکہ دو ہفتے کی عمر میں ان کی نشوونما میں کمی کے امکانات 2.5 گنا زیادہ تھے۔
ہر پانچ میں سے ایک یعنی 17 فیصد چوہے پیدائش کے ابتدائی تین مہینوں کے اندر مر گئے، جبکہ اس کے برعکس ایسے چوہے جنہیں اینٹی بوٹکس نہیں دی گئی تھی ان میں نوزائیدہ چوہوں کے مرنے کی تعداد صرف 5 فیصد تھی۔
روٹگرز یونیورسٹی کی ماریا گلوریا ڈومنگیوز بیلو کا کہنا ہے کہ یہ مقالہ آنتوں اور تولیدی صحت کے درمیان ایک پیچیدہ تعلق کے بارے میں چونکا دینے والی سمجھ اور آگاہی فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ سائنسدان سمجھتے ہیں کہ والد کی آنت کی صحت اور نوزائیدہ بچے کی صحت کے درمیان تعلق ہے، لیکن وہ ابھی تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماضی میں کیے جانے والے متعدد مطالعات میں پہلے ہی آنتوں کی صحت کے خواتین کی تولیدی نظام پر اثرات کے بارے میں غور کیا جاچکا ہے جیسے کہ ماں بننے کی خواہشمند خواتین مختلف وٹامنز جیسے آئرن، فولیٹ اور وٹامن ڈی کا استعمال کرتی ہیں اور آنتوں کی صحت غذائی اجزاء کے جذب کو متاثر کر سکتی ہے۔
اسی طرح آنت کی صحت گٹ برین کے ذریعے تناؤ میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے، جس کا اثر تولیدی نظام پر بھی پڑ سکتا ہے۔ مردحضرات اور خواتین دونوں جنسوں میں، آنت کی سوزش ہارمون کی پیداوار میں خلل کا باعث بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اسپرم کے معیار میں کمی اور بیضہ دانی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
2019 میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ گٹ بیکٹیریا جو بچے کو اپنی ماں سے وراثت میں ملتا ہے وہ بعد کی زندگی میں ان کی مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لہذا، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کی پیدائش کے وقت والدین کی آنت کی صحت ان کی نشوونما اور صحت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔