کیا آپکو معلوم ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔
مسلسل تھکاوٹ
اگر آپ مناسب نیند کے باوجود دن بھر تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتے ہیں تو اپنے روزمرہ کے معمولات میں مختصر جسمانی سرگرمی، جیسے چہل قدمی یا سٹریچنگ کو ضرور شامل کریں۔
وزن میں اضافہ
وزن میں نمایاں اضافہ یا جسمانی ساخت میں تبدیلی کی صورت میں باقاعدہ ورزش کریں اور کارڈئیو اور سٹریتھ ٹریننگ کو بھی اس کا حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے وزن کو متوازن غذا کے ساتھ کم کریں۔
جوڑوں کا درد
صبح اٹھنے یا پھر زیادہ دیر بیٹھے رہنے کے بعد اگر پٹھوں میں کھچاؤ محسوس کرتے ہیں تو روزانہ ایسی ورزش کریں جس میں سٹریچنگ بھی شامل ہو۔
ویسے تو پٹھوں کی لچک برقرار رکھنے کے لیے یوگا یا پیلاٹیس بہترین ورزش سمجھی جاتی ہے۔
بیٹھنے کی پوزیشن
اگر آپ جھک کر چلتے یا بیٹھتے ہیں، اپنے کندھوں کو سیدھا رکھنے کے بجائے جھکا کر رکھتے ہیں تو پھر ایسی ورزش کریں جو آپ کی کمر کے پٹھوں کو مضبوط کرے۔
اپنے کام کی جگہ پر بھی مسلسل بیٹھے رہنے کے بجائے ہر تھوڑی دیر بعد کھڑے ہوں اور سٹریچنگ کریں۔
موڈ میں تبدیلی
بے چینی، ڈپریشن، یا چڑچڑاپن میں اضافہ محسوس کر رہے ہیں تو ایسے میں جسمانی سرگرمی موڈ کو بہتر کر سکتی ہے۔
اکثر بیمار رہنا
نزلہ، زکام اور دیگر انفیکشنز کا اگر اکثر سامنا رہتا ہے تو یاد رکھیں کہ جسمانی سرگرمی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔
اپنے جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر کرنے کے لیے باقاعدہ ورزش کریں۔
نیند کی کمی
نیند آنے میں دشواری یا سوتے رہنا تر و تازہ محسوس نہ کرنے کی شکایت ہے تو ایسے میں باقاعدہ جسمانی سرگرمی نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔




















