ورزش کرنے کا ایک اور حیران کُن فائدہ سامنے آ گیا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ورزش نہ صرف دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے بلکہ یہ دماغ کو جوان رکھنے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں ماہرین نے چوہوں کو مختلف اقسام کی ورزش کروائیں اور پھر ان کے جسم اور دماغی صحت پر پڑنے والے اثرات کا طویل جائزہ لیا اور پھر ان کا موازنہ ورزش نہ کرنے والے نر اور مادہ چوہوں کی صحت سے کیا۔
ماہرین کے مطابق جن چوہوں نے ورزش کی تھی ان کے جسم کے مجموعی اعضا بہتر طریقے سے کام کرتے دکھائی دیے جبکہ ان میں دماغی فعالیت بھی بڑھ گئی اور ان کے دماغ کا اعصابی نظام بہتر انداز میں کام کرنے لگا۔
انہوں نے کہا کہ ورزش سے دماغ کے اعصابی نظام (نیورونز) کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے جس سے دماغ میں خون کی ترسیل اچھے انداز میں ہوتی اور اس سے دماغی صحت بہتر ہونے سمیت دماغ کی عمر میں بھی زیادہ تنزلی نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ورزش سے نہ صرف دل، جگر، معدہ، مسلز اور پیٹ سمیت جسم کے دیگر اعضا بہتر ہوتے ہیں بلکہ اس سے دماغی صحت بھی نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ ورزش سے یادداشت بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ دماغی فعالیت بڑھ جاتی ہے اور اس سے دماغ میں خون کی بہتر ترسیل کے باعث اس کی عمر سست انداز میں بڑھتی ہے۔
یعنی ورزش واضح طور پر جسم کے دیگر حصوں اور اعضا کی طرح دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتی ہے، ورزش سے انسانی دماغ جوان رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دوڑنا، کھانے کے بعد چہل قدمی کرنا، اونچائیاں چڑھنا، تیرنا، وزن اٹھاکر ورزش کرنا بہترین مشقیں ہیں اور یہ مکمل صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔




















