چہل قدمی کرنے کا بڑا فائدہ سامنے آ گیا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پیدل چلنے یا چہل قدمی کرنے سے اگرچہ وزن کم نہ بھی ہو تو بھی اس سے کمر درد کم ہوسکتا ہے۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ پیدل چلنے کے دوران نہ صرف ٹانگیں اور کمر تک کا جسم کا نچلا حصہ متحرک رہتا ہے بلکہ اس سے جسم کے نچلے حصے کے مسلز بھی متحرک رہتے ہیں، جس سے کمر درد میں کمی ہوتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ کمر درد سمیت ٹانگوں کا درد عام حالت ہے، جس سے دنیا بھر میں ادھیڑ اور زائد العمر لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں اور وہ درد کو کم کرنے کے لیے درد کشا ادویات کا استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ درد کش ادویات کے استعمال سے اگرچہ کمر درد سمیت جسم کے دیگر حصوں میں ہونے والے درد سے کچھ وقت کے لیے راحت ملتی ہے، تاہم ادویات سے درد مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پیدل گھومنے سے کمر درد کے نہ صرف کم ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں بلکہ اس کے خاتمے کے امکانات بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کمر درد کا شمار ایسی پیچیدگیوں میں ہوتا جنہیں ادویات کے بجائے احتیاط سے ختم کیا جا سکتا ہے اور اسے ختم کرنے کا احتیاط زیادہ سے زیادہ پیدل چلنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیدل چلنے سے نہ صرف وزن کم ہوتا ہے بلکہ اس سے جسم بھی متحرک رہتا ہے، جس سے صحت کے متعدد فوائد ہوسکتے ہیں۔




















