پوری دنیا میں ڈپریشن حیرت انگیز حد تک ایک عام بیماری بن چکا ہے۔
ڈپریشن ایک موڈ سے متعلقہ بیماری ہے اور یہ روز مرہ کے کام مثلا کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور معاشرتی رویوں کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے۔
یہ کئی اقسام کا ہوسکتا ہے، کسی بھی قسم کے ڈپریشن میں پیدا ہونے والی ناامیدی کی شدید لہر انسان کو تباہ کن حد تک متاثر کرتی ہے۔
زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں۔
بعض افراد انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پرحاوی کرلیتے ہیں اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو بار بار سوچتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹینشن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں ڈپریشن تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے؟ اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ہمارے اردگرد پھیلے زہریلے ماحولیاتی عناصر اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے۔
ماہرین نے اس تحقیق میں شامل 3427 لوگوں کے خون اور پیشاب کے نمونوں کا تجزیہ کرکے 27 زہریلے عناصر کی سطح کی جانچ پڑتال کی۔
تحقیق کے مطابق 6 زہریلے عناصر ڈپریشن سے منسلک ہوتے ہیں، ان عناصر میں نکوٹین کی 3 اقسام، وی او سی میٹابولیٹس، 2 اقسام کے میٹل، 6 اقسام کے پولی سائیکلک ہائیڈروکاربن اور دیگر شامل ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ لوگوں کے جسم میں سگریٹ اور گاڑیوں کے دھویں میں پائے جانے والے زہریلے عناصر کی سطح بڑھنے سے ڈپریشن کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 74 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی طرح جب جسم سگریٹ میں موجود نکوٹین کو ٹکڑے کرتا ہے تو اس سے بھی ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مردوں اور نوجوانوں میں زہریلے عناصر کے باعث ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ خواتین اور بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، ان زہریلے عناصر سے جسم میں ورم بڑھتا ہے جس سے بھی ڈپریشن کی علامات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔




















