پوری دنیا میں ڈپریشن حیرت انگیز حد تک ایک عام بیماری بن چکا ہے۔
ڈپریشن ایک موڈ سے متعلقہ بیماری ہے اور یہ روز مرہ کے کام مثلا کھانا، پینا، سونا، جاگنا اور معاشرتی رویوں کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے۔
یہ کئی اقسام کا ہوسکتا ہے، کسی بھی قسم کے ڈپریشن میں پیدا ہونے والی ناامیدی کی شدید لہر انسان کو تباہ کن حد تک متاثر کرتی ہے۔
زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں۔
بعض افراد انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پرحاوی کرلیتے ہیں اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو بار بار سوچتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹینشن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کہ ڈپریشن اور انزائٹی سے خون جمنے یا بلڈ کلاٹس کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے، بلڈ کلاٹس سے فالج یا ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ماہرین نے اس تحقیق میں 11 لاکھ افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تاکہ انزائٹی اور ڈپریشن کے شکار افراد میں بلڈ کلاٹس کے خطرے کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔
ان میں سے 1520 افراد کے دماغی اسکینز کیے گئے جن سے ڈپریشن اور انزائٹی سے ورم کی موجودگی کا عندیہ ملا۔
ایک لاکھ افراد کی صحت کا جائزہ 3 سال تک لیا گیا اور اس عرصے میں 1781 افراد میں بلڈ کلاٹس کے مسئلے کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق کے مطابق انزائٹی یا ڈپریشن کے شکار افراد میں بلڈ کلاٹس کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ایسے افراد جو ان دونوں امراض سے بیک وقت متاثر ہوتے ہیں، ان میں بلڈ کلاٹس کا خطرہ 70 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انزائٹی اور ڈپریشن جیسے عام امراض بلڈ کلاٹس کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ دماغی امراض کے شکار افراد میں بلڈ کلاٹس کا خطرہ کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔




















