Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈپریشن کی چند نشانیاں، دماغی صحت کے لیے بڑا خطرہ

ڈپریشن مجموعی طور پر نہیں بلکہ اس کی چند مخصوص علامات مستقبل میں دماغی بیماری کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

ماہرین کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ درمیانی عمر میں ڈپریشن کی کچھ مخصوص علامات بڑھاپے میں یادداشت کی بیماری (ڈیمینشیا) کے خطرے کی نشاندہی کرسکتی ہیں جس سے بروقت احتیاطی اقدامات اور علاج ممکن ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق برطانیہ کے تعلیمی ادارے یونیورسٹی کالج لندن سے وابستہ سائنسدانوں نے کی جس میں ڈپریشن اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

محققین کے مطابق ڈپریشن مجموعی طور پر نہیں بلکہ اس کی چند مخصوص علامات مستقبل میں دماغی بیماری کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

تحقیق کے دوران 5 ہزار 811 افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا جن کی عمریں 45 سے 69 سال کے درمیان تھیں اور وہ تحقیق کے آغاز پر ڈیمینشیا کا شکار نہیں تھے۔

ان افراد کی ذہنی صحت کا ریکارڈ 1997 سے 1999 کے دوران جمع کیا گیا جب کہ اگلے تقریباً 20 برس تک ان کی صحت پر نظر رکھی گئی۔ 2023 تک کے سرکاری طبی ریکارڈز کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے گئے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 10 فیصد افراد بعد ازاں ڈیمینشیا میں مبتلا ہوئے تاہم جن افراد میں درمیانی عمر کے دوران ڈپریشن کی پانچ یا اس سے زائد علامات موجود تھیں، ان میں یادداشت کی بیماری کا خطرہ 27 فیصد زیادہ پایا گیا۔

یہ اضافہ خاص طور پر ڈپریشن کی چھ علامات کی وجہ سے ہوا جن میں خود اعتمادی میں کمی، مسائل سے نمٹنے میں دشواری، دوسروں سے جذباتی وابستگی کا فقدان، مستقل بے چینی، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور کام کی انجام دہی پر عدم اطمینان شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق خود اعتمادی کا ختم ہونا اور مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت میں کمی سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئیں جن سے ڈیمینشیا کا خطرہ تقریباً 50 فیصد تک بڑھ گیا۔

اس کے برعکس نیند کے مسائل یا خودکشی کے خیالات کا طویل المدتی یادداشت کی بیماری سے کوئی واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق براہِ راست وجہ ثابت نہیں کرتی تاہم یہ واضح کرتی ہے کہ درمیانی عمر کی بعض روزمرہ ذہنی علامات مستقبل کی دماغی صحت کے بارے میں اہم اشارے دے سکتی ہیں۔

ان علامات پر بروقت توجہ دے کر یادداشت کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ مختلف معاشروں اور آبادیوں میں ان نتائج کی تصدیق کی جا سکے تاہم یہ تحقیق ذہنی صحت کے زیادہ ذاتی نوعیت کے علاج کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔