ماہرین نے ایک نئی قسم کی باریک پلاسٹک کی تہہ تیار کی ہے جو وائرس کو کیمیائی طریقے کے بجائے جسمانی طور پر تباہ کرکے ختم کردیتی ہے۔
تحقیق کے مطابق روزمرہ استعمال کی چیزیں جیسے میز، دروازوں کے ہینڈل اور موبائل اسکرین وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بنتی ہیں۔ عام طور پر لوگ آلودہ سطح کو چھونے کے بعد آنکھ، ناک یا منہ کو ہاتھ لگاتے ہیں جس سے بیماری منتقل ہوتی ہے۔
سائنسدانوں نے ایک ایسا نیا مادہ تیار کیا ہے جس کی سطح نہایت باریک ابھاروں پر مشتمل ہے۔ یہ ابھار اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ نظر نہیں آتے مگر جب وائرس اس سطح سے ٹکراتا ہے تو یہ اس کے بیرونی خول کو کھینچ کر تباہ کردیتے ہیں جس سے وائرس ختم ہوجاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ روایتی جراثیم کش ادویات سے مختلف ہے کیونکہ اس میں کسی کیمیکل کی ضرورت نہیں پڑتی۔ عام جراثیم کش مادے وقت کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں، ماحول کو نقصان پہنچاسکتے ہیں اور بعض اوقات جراثیم ان کے خلاف مزاحمت بھی پیدا کرلیتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ نئی سطح نہ صرف مؤثر ہے بلکہ اسے کم لاگت میں بڑے پیمانے پر تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کا استعمال موبائل فون، اسپتال کے آلات، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں کیا جاسکتا ہے۔
لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا کہ مخصوص وائرس کی تقریباً 94 فیصد مقدار ایک گھنٹے کے اندر اس سطح سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بنیاد قدرت میں موجود بعض حشرات کے پروں سے لی گئی ہے جہاں باریک ساخت جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مواد وقت کے ساتھ خراب ہوسکتا ہے تاہم وائرس سے بچاؤ کے لیے یہ ایک مؤثر اور محفوظ متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔




















