ذرا ایک لمحے کے لیے اپنے جسم کے بارے میں سوچیں، آپ کا دل مسلسل دھڑک رہا ہے، پھیپھڑے سانس لے رہے ہیں، دماغ سوچ رہا ہے، آنکھیں دیکھ رہی ہیں، پٹھے حرکت کر رہے ہیں اور جسم کا مدافعتی نظام ہر وقت بیماریوں سے لڑنے میں مصروف ہے یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے؟
انسانی جسم ایک ایسی حیرت انگیز حیاتیاتی دنیا ہے جس میں کھربوں چھوٹے چھوٹے خلیے مل کر زندگی کو قائم رکھتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق ایک اوسط بالغ انسان کے جسم میں تقریباً 30 کھرب (30 ٹریلین) انسانی خلیے ہوتے ہیں۔یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ اسے تصور کرنا بھی مشکل ہے۔
یہ تعداد معلوم کیسے ہوئی؟
کچھ عرصہ پہلے تک مختلف کتابوں میں انسانی جسم کے خلیوں کی تعداد 10 کھرب سے لے کر 100 کھرب تک بتائی جاتی تھی۔ دراصل یہ اعداد زیادہ تر عمومی اندازوں پر مبنی تھے۔
بعد میں سائنس دانوں نے مختلف اعضا اور ٹشوز کا الگ الگ جائزہ لینا شروع کیا۔ خون، دماغ، ہڈیوں، پٹھوں، جلد اور دیگر جسمانی حصوں میں موجود مختلف اقسام کے خلیوں کا تخمینہ لگایا گیا۔
مختلف تحقیقات کو یکجا کرنے کے بعد تقریباً 70 کلوگرام وزن رکھنے والے ایک اوسط بالغ انسان کے لیے 30 کھرب خلیوں کا تخمینہ سامنے آیا۔
لیکن یہ تعداد ہر شخص میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ قد، وزن، جسمانی ساخت، عمر، جنس اور خون کی مقدار جیسے عوامل کے باعث کسی شخص کے جسم میں خلیوں کی تعداد دوسرے شخص سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہے۔
حیرت انگیز حقیقت: زیادہ تر خلیے خون کے ہیں!
اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ انسانی جسم میں سب سے زیادہ خلیے کہاں پائے جاتے ہیں، تو شاید آپ دماغ یا پٹھوں کا نام لیں۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔آپ کے جسم کے تقریباً 70 فیصد خلیے سرخ خون کے خلیے ہیں۔
یہ ننھے خلیے آپ کے پھیپھڑوں سے آکسیجن لے کر پورے جسم تک پہنچاتے ہیں۔
ایک سرخ خون کا خلیہ صرف تقریباً 7 سے 8 مائیکرومیٹر چوڑا ہوتا ہے۔ اتنا چھوٹا کہ اسے عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔
چونکہ یہ خلیے انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے خون کی معمولی سی مقدار میں بھی کروڑوں بلکہ اربوں خلیے موجود ہو سکتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ تعداد میں اتنے زیادہ ہونے کے باوجود یہ جسم کے وزن کا بہت چھوٹا حصہ بنتے ہیں۔
سرخ خون کے خلیوں میں مرکزہ کیوں نہیں ہوتا؟
بالغ انسان کے خون کے سرخ خلیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں مرکزہ نہیں ہوتا۔
مرکزہ نہ ہونے کی وجہ سے خلیے کے اندر ہیموگلوبن کے لیے زیادہ جگہ دستیاب ہوتی ہے، جو آکسیجن کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ایک سرخ خون کا خلیہ تقریباً 120 دن تک زندہ رہتا ہے۔ اس کے بعد جسم اسے ختم کر کے اس کے اجزا کو دوبارہ استعمال کرتا ہے اور ہڈیوں کا گودا نئے خلیے بناتا رہتا ہے۔
یعنی آپ کے جسم میں خون کے خلیوں کی ایک مسلسل “ری سائیکلنگ” جاری رہتی ہے۔
جسم کا سب سے بڑا خلیہ کون سا ہے؟
خلیوں کی دنیا میں بھی سائز کا بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے انسانی بیضہ جسم کا سب سے بڑا خلیہ ہے اور یہ ان چند خلیوں میں شامل ہے جنہیں نسبتاً کم طاقت والی خوردبین سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے دوسری طرف نطفہ جسم کے سب سے چھوٹے خلیوں میں شمار ہوتا ہے۔
لیکن حیرت صرف سائز تک محدود نہیں کچھ اعصابی خلیے، یعنی نیورونز ایک میٹر سے بھی زیادہ لمبے ہو سکتے ہیں۔ بعض نیورونز ریڑھ کی ہڈی سے لے کر پاؤں تک سگنلز پہنچاتے ہیں۔اسی طرح پٹھوں کے بعض ریشے کئی سینٹی میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی جسم کے خلیے نہ صرف تعداد میں بے شمار ہیں بلکہ شکل، سائز اور کام کے لحاظ سے بھی انتہائی متنوع ہیں۔
کیا آپ کا پورا جسم ہر سات سال بعد نیا ہو جاتا ہے؟
آپ نے شاید یہ مشہور بات سنی ہو “انسان کا جسم ہر سات سال کے بعد مکمل طور پر نیا ہو جاتا ہے۔”
لیکن یہ بات درست نہیں۔حقیقت میں جسم کے مختلف خلیے مختلف رفتار سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
مثلاً آنتوں کی اندرونی سطح کے خلیے چند دنوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جبکہ سرخ خون کے خلیے تقریباً چار ماہ تک زندہ رہتے ہیں۔
دوسری طرف دماغ کے بہت سے نیورونز کئی دہائیوں تک زندہ رہ سکتے ہیں، اور بعض ممکنہ طور پر پوری زندگی برقرار رہتے ہیں۔یعنی آپ کا جسم مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، لیکن پورا جسم ایک ہی وقت میں نیا نہیں بنتا۔
آپ کے جسم میں صرف انسانی خلیے نہیں ہیں
ایک اور مشہور دعویٰ یہ تھا کہ انسانی جسم میں موجود بیکٹیریا کی تعداد انسانی خلیوں سے 10 گنا زیادہ ہوتی ہے جدید اندازوں کے مطابق یہ تناسب دراصل تقریباً 1:1 کے قریب ہے۔
یعنی آپ کے جسم میں موجود بیکٹیریائی خلیوں کی تعداد تقریباً انسانی خلیوں کے برابر ہو سکتی ہے۔
یہ بیکٹیریا محض “غیر ضروری جراثیم” نہیں ہیں۔ ہمارے جسم میں موجود بہت سے مائیکرو آرگینزمز ہاضمے، مدافعتی نظام اور جسم کے دیگر اہم افعال میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ان تمام مائیکرو آرگینزمز کو مجموعی طور پر ہیومن مائیکرو بایوم کہا جاتا ہے۔
اگر ایک سیکنڈ میں ایک خلیہ گنیں تو؟
اب 30 کھرب کی تعداد کو ذرا تصور کرنے کی کوشش کریںفرض کریں آپ ایک سیکنڈ میں صرف ایک خلیہ گن سکتے ہیں۔
آپ مسلسل گنتے رہیںنہ کھانا، نہ سونا، نہ آرام۔تب بھی انسانی جسم کے تقریباً 30 کھرب خلیوں کو گننے میں تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار سال لگ جائیں گے یعنی اگر کسی نے تقریباً دس لاکھ سال پہلے گنتی شروع کی ہوتی تو شاید آج جا کر وہ آپ کے تمام خلیے گن پاتا۔
دماغ میں بھی اربوں خلیے ہیں
انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز موجود ہوتے ہیں یہ تعداد اپنی جگہ ناقابلِ یقین ہے، لیکن پورے جسم کے تقریباً 30 کھرب خلیوں کے مقابلے میں یہ تعداد ایک فیصد کے ایک تہائی سے بھی کم بنتی ہے اس کے باوجود یہی نیورونز ہمارے خیالات، یادداشت، حرکات، احساسات اور جسم کے بے شمار پیچیدہ افعال میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اصل حیرت تعداد نہیں، تعاون ہے
30 کھرب ایک بہت بڑی تعداد ہے، لیکن شاید انسانی جسم کی اصل حیرت صرف یہ تعداد نہیں اصل حیرت یہ ہے کہ یہ کھربوں خلیے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، مخصوص کام انجام دیتے ہیں اور ایک انتہائی پیچیدہ نظام کے طور پر مل کر کام کرتے ہیں۔
کچھ خلیے آکسیجن پہنچاتے ہیں کچھ بجلی جیسے سگنلز منتقل کرتے ہیں کچھ بیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں کچھ ہڈیاں بناتے ہیں کچھ زخموں کی مرمت کرتے ہیں۔اور کچھ ایسے کام انجام دیتے ہیں جن کے بارے میں سائنس ابھی بھی مسلسل نئی چیزیں دریافت کر رہی ہے۔
خوردبینی دنیا جو حیرت انگیز ہم آہنگی سے کام کرتی ہے
انسانی جسم محض مختلف اعضا کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ تقریباً 30 کھرب انسانی خلیوں پر مشتمل ایک زندہ حیاتیاتی نظام ہے،اور ہر لمحہ کھربوں خلیے اپنی اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔
کچھ خلیے آکسیجن پہنچاتے ہیں، کچھ برقی سگنلز پیدا کرتے ہیں، کچھ انفیکشنز کے خلاف لڑتے ہیں، کچھ ہڈیاں بناتے ہیں، جبکہ کچھ خراب یا زخمی ٹشوز کی مرمت کرتے ہیں۔
انفرادی طور پر یہ خلیے نہایت چھوٹے اور اکثر مختصر مدت تک زندہ رہنے والے ہوتے ہیں آپ کی ہر سانس، ہر قدم، ہر خیال اور دل کی ہر دھڑکن کے پیچھے ایک ایسی پیچیدہ حیاتیاتی مشینری کام کر رہی ہے جسے دیکھ کر سائنس بھی حیران رہ جاتی ہے۔
آپ صرف ایک جسم نہیں ہیں؛ آپ تقریباً 30 کھرب خلیوں کی ایک زندہ، متحرک اور حیرت انگیز دنیا ہیں۔




















