طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روایتی سگریٹ چھوڑ کر ای سگریٹ استعمال کرنے والے افراد میں آنکھوں کی سنگین بیماریوں اور بینائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جب کہ مکمل طور پر نشہ آور مادہ ترک کرنے والوں میں یہ خطرہ سب سے کم دیکھا گیا۔
طبی ماہرین کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف روایتی سگریٹ چھوڑ کر ای سگریٹ اختیار کرنا آنکھوں کی صحت کے لیے مکمل طور پر محفوظ نہیں کیونکہ نقصان کی ایک بڑی وجہ نشہ آور مادہ خود بھی ہوسکتا ہے۔
امریکا کے طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 32 ہزار سے زائد سابق تمباکو نوش افراد کا اوسطاً چار سال سے زیادہ عرصے تک جائزہ لیا گیا۔
اس دوران معلوم ہوا کہ جن افراد نے نشہ آور مادہ مکمل طور پر چھوڑ دیا تو ان میں آنکھوں کی بیماریوں کی شرح سب سے کم رہی جب کہ ای سگریٹ استعمال کرنے والوں میں یہ شرح نسبتاً زیادہ دیکھی گئی۔
تحقیق کے مطابق ای سگریٹ استعمال کرنے والوں میں بینائی سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا مجموعی خطرہ تقریباً 7 فیصد زیادہ پایا گیا۔
ماہرین نے خاص طور پر ذیابیطس سے متاثرہ افراد میں آنکھ کے پردے کی خون کی نالیوں کو نقصان پہنچنے والی بیماری میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا۔
تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں اس بیماری کا خطرہ مکمل طور پر نشہ چھوڑنے والوں کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ تھا جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ نشہ آور مادہ خون کی نالیوں کو تنگ کرسکتا ہے جس کے باعث آنکھوں تک آکسیجن کی فراہمی کم ہوجاتی ہے اور جسم میں سوزش بڑھ سکتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ عوامل آنکھوں کے نازک حصوں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ای سگریٹ کو روایتی سگریٹ کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے اور اسے تمباکو نوشی چھوڑنے میں مددگار بھی قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ مکمل طور پر بے ضرر نہیں اور اس کے طویل المدتی اثرات کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔




















