انسان میں ہمیشہ سے یہی جستجو رہی ہے کہ وہ اپنی عمر کا درست اندازہ لگا سکے کہ وہ کتنے برس تک زندہ رہے گا تاہم ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان حیرت انگیز طور پر یہ اندازہ لگانے میں کافی اچھے ہوتے ہیں کہ وہ کب مریں گے تاہم اس حوالے سے وہ اکثر ایک بڑی غلطی کر جاتے ہیں۔
تو کیا صرف لمبی زندگی کی توقع کرنا انسان کو زیادہ عرصے تک زندہ رکھ سکتا ہے؟
چونکہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھی، اس لیے یہ ثابت نہیں کرتی کہ زیادہ عرصہ زندہ رہنے کی توقع خود انسان کی عمر بڑھاتی ہے یا مثبت سوچ لوگوں کو زیادہ دیر تک زندہ رکھتی ہے۔
ممکن ہے کہ لوگ اپنی صحت، عادات یا خاندانی تاریخ کے بارے میں ایسی معلومات رکھتے ہوں جو ان کی متوقع عمر اور حقیقی عمر، دونوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، جو شخص خود کو صحت مند محسوس کرتا ہے، وہ زیادہ عمر کی توقع بھی کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ واقعی زیادہ عرصے تک زندہ بھی رہے۔
اگرچہ محققین نے صحت سے متعلق مختلف عوامل کو مدنظر رکھا، لیکن کچھ ایسی خصوصیات بھی ہو سکتی ہیں جنہیں تحقیق میں ناپا نہیں گیا اور جنہوں نے متوقع اور حقیقی عمر دونوں کو متاثر کیا ہو۔
تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ موجودہ عمر اور جنس کی بنیاد پر باقی ماندہ متوقع عمر کے بارے میں زیادہ واضح معلومات لوگوں کو مالی معاملات کے بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
یہ نتائج یہ ثابت نہیں کرتے کہ انسان صرف زیادہ عرصہ زندہ رہنے کی توقع کر کے اپنی زندگی کو طول دے سکتا ہے۔
تاہم، ہماری اپنی متوقع عمر کے بارے میں پیش گوئیوں میں ایسی معلومات ضرور شامل ہو سکتی ہیں جو ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی صحت اور حالات کے بارے میں جانتے ہیں۔
