عمر رسیدگی یا چوٹ کی صورت میں اکثر کولہے، گھٹنے یا کندھے کے مکمل جوڑ سرجری کے ذریعے تبدیل کر دیے جاتے ہیں اس طرح یہ طریقہ درد میں کمی اور نقل و حرکت بحال کرنے میں مؤثر ثابت تو ہوتا ہے مگر یہ صحت کے دیگر خطرات کے اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
امریکا کے رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک ٹیم کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ مصنوعی جوڑوں میں رگڑ یا زنگ لگنے (corrosion) کے نتیجے میں خارج ہونے والے ذرات دماغ تک پہنچ سکتے ہیں تاہم محققین کو ان دھاتی ذرات کی موجودگی اور ذہنی صلاحیت میں کمی یا ڈیمنشیا کے درمیان براہِ راست تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
محققین کے مطابق مصنوعی جوڑوں سے خارج ہونے والے ذرات، خصوصاً بعض ایسے کولہے کے جوڑوں میں جہاں تیزی سے خرابی واقع ہوتی ہے، جوڑ کے مقام سے آگے جسم میں سفر کر سکتے ہیں، جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
محققین نے تحقیق کے دوران دماغ میں ایمیلوئیڈ بیٹا اور ٹو پروٹینز کی غیر معمولی مقدار کا بھی جائزہ لیا، جو الزائمر بیماری کی نمایاں علامات سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ شرکا کی زندگی کے دوران کیے گئے ذہنی کارکردگی کے ٹیسٹوں کے نتائج بھی شامل کیے گئے۔
تحقیق میں سب سے واضح تعلق کولہے کے مصنوعی جوڑ اور کوبالٹ کے درمیان سامنے آیا۔ جن افراد کے کولہے کے جوڑ تبدیل کیے گئے تھے، ان کے دماغ کے مطالعہ کیے گئے چار حصوں میں کوبالٹ کی اوسط مقدار تقریباً 8.9 فیصد زیادہ پائی گئی۔
ذرات کے تجزیے سے اشارہ ملا کہ مصنوعی جوڑ سے خارج ہونے والے کم از کم کچھ ذرات خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) کو عبور کرکے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں تاہم تحقیق میں یہ براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا گیا کہ یہ ذرات دماغ تک کس راستے سے پہنچے۔
محققین کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ بڑھتی عمر یا دائمی سوزش کی وجہ سے خون اور دماغ کے درمیان حفاظتی رکاوٹ کمزور ہوگئی ہو۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ دھاتی ذرات جسم کے مدافعتی خلیوں کے ذریعے دماغ تک پہنچتے ہوں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
تاہم، ذہنی صلاحیت میں کمی اور کوبالٹ کی مقدار کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا۔
تحقیق میں دماغ میں ٹائٹینیم کی زیادہ مقدار اور جوڑوں کی تبدیلی کے درمیان بھی تعلق سامنے آیا۔ مجموعی طور پر دماغ میں ٹائٹینیم کی زیادہ مقدار کا تعلق کمزور ذہنی کارکردگی سے بھی پایا گیا، تاہم محققین نے واضح کیا کہ ٹائٹینیم صرف مصنوعی جوڑوں سے نہیں آتا بلکہ خوراک اور بعض ادویات سمیت دیگر ذرائع سے بھی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کے مضبوط شواہد فراہم کرتی ہے کہ جوڑوں کی تبدیلی کے بعد خارج ہونے والے دھاتی ذرات دماغ تک پہنچ سکتے ہیں تاہم اس کے صحت پر ممکنہ اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔




















