ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ رواں سال 2022 پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین سال ثابت ہوا ہے جس میں مہنگائی نے نئے ریکارڈ قائم کردیئے ہیں
تفصیلات کے مطابق پشاور اور لاہور میں سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے شہریوں کے اوسان خطا کر دئیے ہیں آٹا، مرغی، گوشت، انڈے، دالیں، چاول، سبزی، پھل، دودھ برائلر گوشت سبھی کی قیمتوں میں پورے سال اضافہ ہوتا رہا ۔
گزشتہ تین روز میں برائلر گوشت کے نرخ میں 27 روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا ہے
ذرائع کے مطابق اس وقت لاہور میں برائلر گوشت 12 روپے کلو مہنگا کردیا گیا ہے جس سے گوشت کا نرخ 509 روپے فی کلوہوگیا ہے۔
لاہور میں بھی کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے شہریوں کا کہنا ہےکہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
انڈے بدستور 274 روپے فی درجن دستیاب ہورہے ہیں
پیاز کا سرکاری نرخ 200 روپے کلو مقرر ہے اور مارکیٹ میں پیاز درجہ اول 220 روپے کلو فروخت ہو رہے لیکن اس کے باوجود پیاز عوام کو کم قیمتوں میں دستیاب نہیں ہے۔
لاہور میں دیگر سبزیوں میں اس وقت ٹماٹر 80 آلو 50 روپے لہسن 350 اور ادرک 450 روپے فی کلو کے حساب سے گروخت کئےجارہے ہیں۔
پشاور میں سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے
پشاور میں بھنڈی نے ٹرپل جبکہ پیاز نے ڈبل سنچری کرلی ہے شہری کہتے ہیں یہ دن بھی دیکھنے پڑے کہ سبزیاں بھی قوت خرید سے باہر ہو گئیں ہیں ۔
زرائع کے مطابق پشاور میں بھنڈی300 جبکہ پیاز200 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہےتاہم ادراک اور لہسن350 روپے فی کلوگرام ہوگیا ہے
پشاور کی سبزی منڈی میں کسی بھی سبزی کی قیمت سو روپے سے کم نہیں ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ سبزی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے اب سبزی بھی نہیں کھا سکتے،۔حکومت صرف وعدوں اور دعووں میں مہنگائی ختم کر رہی ہے۔
علاوہ ازیں ملک بھر میں انڈے بدستور 274 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت کئے جارہے ہیں تاہم سبزیوں اور پیاز تاحال سستی نہ ہوسکیں
پیاز کے سرکاری نرخ 200 روپے فی کلو مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں پیاز درجہ اول 220 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔
ٹماٹر 80 اور آلو 50 روپے کلوکے حساب سے دستیاب ہیں جبکہ لہسن 350 اور ادرک 450 روپے فی کلو ہیں۔
دیگر سبزیوں میں پھول گوبھی 60 بند گوبھی 40 ، شلجم ، پالک اور مولی 40 گاجر 50 روپے فی کلو تک بیچی جا رہی ہے
خان پور میں آٹا نایاب ہوگیا شہریوں کی لمبی قطاریں لگ گئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت خن پور میں غربت کے ستائے شہری آٹا 120 روپے کلو پر خریدنے پر مجبور ہیں اس کے باوجود آٹاخرید نے کے لئے آٹا ڈپو پرشہریوں کی کثیر تعداد آٹا نہ ملنے پر احتجاج کررہی ہے۔
’رواں سال 2022 پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین سال ثابت ہوا ہے‘ ادارہ شماریات
وفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ شماریات کے اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران 20 کلو آٹے کا تھیلا 800 روپے تک مہنگا ہوا جبکہ باسمتی چاول 40 روپے گائے کا گوشت 100 روپے بکرےکے گوشت میں 400 روپے کلو تک اضافہ ہوچکا ہے
ایک سال میں زندہ مرغی کا گوشت 110 روپے کلو، انڈے 100 روپے درجن، تازہ دودھ 60 روپے لیٹر، دہی 60 روپے کلو جبکہ ڈھائی کلو گھی کے ڈبے پر 395 روپے تک کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق دال مسور، دال چنا اور دال مونگ90 روپے فی کلو تک بڑھی جبکہ دال ماش کی قیمت میں 125 روپے فی کلو کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔
سبزیوں میں آلو پر 50، لہسن 100 پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں 110 روپے فی کلو تک کا اضافہ دیکھا گیا۔چائے کا پیکٹ 163 روپے نمک کی قیمت میں 15 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔



















