11نومبر 2022 کا دن خیبر پختونخواہ کے علاقے شانگلہ میں رہنے والی زینت بی بی (فرضی نام) کیلئے معمول کے روز کی طرح تھا لیکن مغرب کے بعد یہ تاریخ اُنکے لیے اس وقت پریشانی کاسبب بنی جب گھر کے کام کاج نمٹانے کے بعد اس شام انکا رابطہ اپنے شوہر سے نہیں ہوا رات بھر کوشش کے باوجود شوہر سے فون پر رابطہ نہ ہونے پر زینت قیامت خیز خیالات کا سامنا کر رہی تھیں کہ کہیں انکے شوہر کانکنی کرتے ہوئے کسی حادثے کا شکار تو نہیں ہوگئے پھر انہیں اگلے روز معلوم ہوا کہ انکے 5 بچوں کے والد اور گھر کے واحد کفیل کو اغوا کر لیا گیا ہے،اُنکے شوہر کے منظر عام پر آنے تک انہیں ہر روز بیوہ ہونے جیسی مختلف افواہوں کا بھی سامنا رہا
زینت بی بی کے شوہر گزشتہ کئی سال سے بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ کی ایک کوئلہ کان میں مزدوری کررہے ہیں جنہیں 11 دسمبر کو 11 نامعلوم مسلح افراد نے 4 کانکنوں اور ایک کوئلہ کان کے منشی سمیت اغوا کر لیا تھا
17روز بعد 27 نومبر کو زینت بی بی کے شوہر سمیت اغوا ہونیوالے 5کانکن تو واپس آگئے لیکن مچھ میں رہنے والی (ش)کے 32سالہ بھائی برکت علی کو اغوا کاروں نے رِہا نہیں کیا جب یہ بات برکت علی کی بہن تک پہنچی تو وہ صدمے سے نڈھال ہوگئیں انہوں نے اللہ سے مذہبی عقیدت کی بنا پر بھائی کی باحفاظت واپسی کیلئے 3سال تک ہر جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی منت مان لی کیونکہ(ش) نہیں چاہتی کہ وہ اپنے بڑے بھائی شیر عالم کی طرح چھوٹے بھائی برکت کو کھو دیں، شیر عالم بھی اپنے بھائی برکت کی طرح کوئلہ کان میں بطور منشی کام کرتے تھے انکی منگنی ہوچکی تھی اور سال 2012 میں انکی شادی قریب تھی کہ 33 سالہ شیر عالم کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کرکے قتل کردیا جب وہ مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر گھر کی طرف آرہے تھے اس واقع کے بعد اُنکی والدہ انتہائی صدمے سے دوچار ہوئیں اور کافی عرصے شدید بیمار رہیں یہی وجہ تھی کہ برکت علی کی والدہ کو انکے اغوا سے متعلق لاعلم رکھا گیا تھا،تاہم چھوٹے بھائی کی جدائی میں 31روز گزارنے والی بہن کی دعائیں رنگ لے آئیں اور 11دسمبر کو اغوا کاروں نے برکت علی کو رہاِکردیا،
اغوا ہونیوالے 5 کانکنوں میں سے 14 روز زیادہ قیدکاٹنے والے برکت علی کو مبینہ طور پر اغوا کاروں نے راشن کی پرچیاں نکلنے پر شک کی بنیاد پررہائی نہیں دی تھی جنہیں کافی منت سماجت کرنے اور ریاستی اداروں سے روابط کے کسی قسم کے شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر رہا کر دیا گیا تھا،
مقامی ذرائع کے مطابق مچھ کے پہاڑی علاقوں میں مائینز کے مخصوص علاقے میں کام کرنیوالوں کیلئے راشن پرچی جاری کی جاتی ہے جو موجودہ افراد کے حساب سے ہوتا ہے جسے ایف سی کے اہلکار پاس کرتے ہیں ذرائع کے مطابق پہاڑوں پر کالعدم تنظیم کی مبینہ موجودگی کے باعث فورسسز راشن کی ترسیل کے عمل پر نظر رکھتی ہیں،
بہترصحت،تعلیم،اور پکی سڑکوں سے محروم بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں واقع ہزاروں فٹ گہری کانوں سے کوئلہ نکالنے والے مزدروں کے اہلخانہ آئے روز کے مائنز حادثات کی وجہ سے پریشان رہتے تھے لیکن اب سیکورٹی مسائل نے کانکنوں کے گھر کی خواتین کو نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار کررکھا ہے،
مچھ ہی کے علاقے گیشتری میں 3 جنوری 2021 میں مسلح افراد نے 10 ہزارہ کانکنوں کو تیزدھار آلے سے قتل کردیا تھا قتل ہونیوالوں میں 5 افراد مری آباد کی رہائشی آمنہ بی بی کے گھر کے تھے جن میں انکا 18 سالہ بیٹا ایک بھائی، ماموں کے 2 بیٹے اور ایک خالہ کا بیٹا شامل تھا جنکی قبریں ایک ہی قطار میں کوئٹہ کے علاقے مری آباد میں موجود بہشت زینب قبرستان میں ہیں جہاں آمنہ بی بی ہفتے کے 3 سے 4روز صبح سے شام تک بیٹے اور بھائی کی قبروں کے پاس بیٹھ کر گزارتیں ہیں وہ اور انکے اہل خانہ آج تک اس گہرے صدمے سے باہر نہیں آسکے ہیں
بلوچستان میں جہاں مذہبی بنیاد پر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کانکن قتل ہوئے ہیں تو وہیں دیگر اقوام کے کئی کانکنوں کو ریاستی اداروں کا آلہ کار قرار دے کر بھی قتل کیا گیا ہے
کالعدم تنظیمیوں ریاستی اداروں اور مائنز مالکان کے مختلف تنازعوں میں جہاں کانکن مشکلات میں کام کر رہے ہیں تو وہیں مزدروں کے اہلخانہ بھی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر نفسیاتی مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں،
کوئلہ کان میں کام کرنیوالے واجد علی کہتے ہیں کہ جب کان میں جاتے ہیں تو کلمہ پڑھ کر جاتے ہیں کہ پتہ نہیں واپس آئیں یا نہیں لیکن اب کان سے نکلتے ہوئے بھی کلمہ پڑھتے ہیں کہ مارے یا اغوا نہ ہو جائیں وہ کہتے ہیں کہ اس بے روزگاری کے دور میں متبادل روزگار ملنا انتہائی مشکل ہے صرف اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری کر رہے ہیں وارنہ کون گھر والوں سے دور اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہزاروں فٹ گہری کان میں جانے کا شوق رکھتا ہے وہ کہتے ہیں کہ اب دہشتگردی اور اغوا کے واقعات سے مزدور ذہنی کوفت میں تو ہیں لیکن ان سے زیادہ گھر کی خواتین بھی پریشانی کا سامنا کر رہی ہیں
بلوچستان میں کان کنوں کے اغوا اور قتل کے واقعات کا تسلسل طویل عرصے سے جاری ہے مگر گزشتہ ایک سال کے دوران ان واقعات میں شدت سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
کانکنوں پر حملوں کے محتاط اعداد و شمار کے مطابق یکم نومبر 2013 کو ضلع بولان میں ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کی گاڑی پر فائرنگ سے 6 مزدور مارے گئے تھے جسکی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تھی
25 دسمبر 2013 کو ہرنائی سے 35 کلومیٹر دور شاہرگ کے علاقے سے 8 کانکنوں کو اغوا کیا گیا تھا جن کا تعلق شانگلہ سے تھا ان کان کنوں کو 15 دن بعد 10 جنوری 2014 کو تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔
جولائی 2014ء میں کوئٹہ کے شمال مشرق میں 35 کلو میٹر دور ڈیگاری میں کوئلہ کان میں 7 کان کنوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جسکی ذمہ داری ایک کالعدم تنظیم نے قبول کی تھی اس ہی واقعہ کے چند روز بعد مچھ سے 8 کان کنوں کو بھی اغواء کرلیا گیا تھا
جنوری 2015 میں کوئٹہ سے 28 کلو میٹر دور سورینج کی کوئلہ کان کے عملے اور کان کنوں سمیت 7 افراد اغواء ہوئے جن میں سے 2 کو ابتدا ہی میں جب کہ دیگر 5 کو بعد ازاں رہا کردیا گیا تھا
21 نومبر 2021 کو ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں مسلح افراد نے کوئلہ کان میں کام کرنے والے 3 کان کنوں کو گولی مار کر قتل کردیا تھا
ضلع بولان کی تحصیل مچھ میں 3 جنوری 2021 کو رات گئے کوئلہ کان میں 10 کان کنوں کو قتل کردیا گیا تھا، واقعہ کی زمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی تھی
12 جون 2022ء کو کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز میں کوئلے کی کان میں کام کرنیوالے انجینیئر اور 3 کانکن اغوا ہوئے بعد ازاں کوئلہ کان کے انجینئر شیر بہادر کی لاش ہرنائی کے قریبی علاقے سے ملی تھی جبکہ دیگر کان کنوں کو تاوان کی ادائیگی کے بعد مسلح افراد نے رہا کردیا تھا
مزدوروں کے قتل اور اغوا کے واقعات کے علاؤہ کانوں میں حادثات کے بھی اعداد و شمار کانکنوں کے نفسیاتی مسائل کیلئے حیران کن ہیں
سال 2022 میں کوئلہ کانوں میں 56 حادثات پیش آئے جن میں 71 کانکن جاں بحق ہوئے جبکہ سال 2021 میں حادثات کی تعداد 65 تھی جن میں 87 کانکن جان کی بازی ہارے جبکہ 43 زخمی ہوئے تھے گزشتہ پانچ سالوں میں کانوں میں حادثات کے دوران 430 کانکن زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،
کانکن لیبر فیڈریشن بلوچستان کے صدر محمد اقبال یوسفزئی کہتے ہیں کہ کانکن اللہ کے توکل پر کام کررہے ہیں مزدور اپنے ہاتھوں پیروں اور مشقت سے کمانے والی روٹی کیلئے بھی خوف و ہراس کا سامنا کر رہے ہیں سیکورٹی کے معاملات پر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے نمائندوں سے میٹنگز ہوتی ہیں جس میں مختلف جگہوں پر چیک پوسٹس بنانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہماری تجاویز پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی ہم چاہتے ہیں کہ کانکنوں کو بہتر سیکورٹی اور سازگار ماحول دیا جائے اس وقت کانکن شدید خوف کی فضاء میں کام کرنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کی مائننگ سب سے زیادہ خطرناک ہے جو 1923 کے ایکٹ پر بھی پورا نہیں اترتی کان کے اندر کانکن حفاظتی اقدامات سے محروم ہیں کان کے اندر جو حادثات ہوتے ہیں وہ کانکن مالکان یا محکمہ مائنز کی غفلت ہوتے ہیں لیکن ان واقعات کو ہم قدرتی حادثات کا نام دیتے ہیں لیکن اب اغوا اور قتل کے واقعات کو بھی کیا ہم کانکن کی قسمت قرار دیں؟ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اغوا ہونیوالے مزدوروں اور کان کے منشی کو جرگے اور قبائلی عمائدین کے زریعے مذکرات کرکے بازیاب کرایا گیاہے محمد اقبال یوسفزئی نے مزید کہا کہ مزدوروں کی تنظیم ILO کے ثمرات سے بلوچستان کے کانکن محروم ہیں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ILO تنظیم پاکستان کے رہنماء مزدوروں کے نام پر پیسے بنا رہے ہیں انٹرنیشنل فنڈنگ کرنیوالے اداروں کو انکا آڈٹ کرنے کی ضرورت ہے،
ماہر نفسیات سعدیہ اشفاق کہتی ہیں کہ جس طرح کسی بھی جسمانی بیماری کا علاج ضروری ہے اسی طرح دماغی سکون کیلئے کسی بھی ٹراماسے نکلنا ضروری ہے کیونکہ جس طرح اغوا ہونیوالے مشکلات سے گزرے ہیں ایسے ہی اُنکے گھر کے افراد بھی شدیدپریشانی سے گزرے ہونگے ایسے واقعات جو انسان نے کبھی تصور بھی نہ کیے ہوں اور وہ رونما ہوجائیں تو ذہنی طور پر اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور فوری طورپر ایسے صدمے سے نکلنا انتہائی مشکل ہوتا ہے جو بھی فیملی اس طرح کے ٹراما کاشکار ہوتی ہے انہیں اپنے خیالات اور احساسات سائیکلوجسٹ کو بتانا ضروری ہیں کیونکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پرانے خیالات انہیں اچانک آجاتے ہیں یا پھر رات میں عجیب وغریب خواب وغیرہ کا آنا بھی شامل ہوتا ہے سعدیہ اشفاق سمجھتی ہیں کہ حکومت کو مالی امداد اور میڈیکل اخراجات کے ساتھ دہشتگردی یا کسی بھی حادثے سے گزرنے والے افراد اور انکے اہلخانہ کو مینٹل ہیلتھ سے متعلق کونسلنگ بھی کرنا چاہیے تاکہ وہ پھر سے ایک بہتر زندگی گزار سکیں
وزیر داخلہ ضیاء لانگو کہتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا 43 فیصد سے زائد رقبے پر مشتمل صوبہ ہے جہاں ایران اور افغانستان کی طویل سرحدیں لگتی ہیں بلوچستان دہشتگردی میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے جتنے وسائل دستیاب ہیں ان سے بڑھ کر امن و امان قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں گوادرپورٹ،سیندک،ریکوڈک، مائنز اور مختلف منصوبوں پر کام کرنیوالوں کو مکمل سیکورٹی کی فراہمی ممکن بنائی جاتی ہے لیکن ایسے عناصرجو پاکستان میں امن نہیں چاہتے وہ اس طرح کے واقعات کر کے خوف و ہراس اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کیلئے اس طرح کے آسان اہداف کا انتخاب کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ مائن مالکان اور لیبر تنظیموں کے ساتھ ملکر مائن میں کام کرنیولوں کی سیکورٹی کو مزید سخت بنائیں گے اور مزدوروں کے قتل اور اغوا کرنیوالے عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ادارے اپنا کام جار ی رکھے ہوئے ہیں جلد بلوچستان کے بگڑتے حالات کو قابو کر لیں گے امن کیلئے ماضی میں عوام و فورسز کی دی گئی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔



















