Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مغویہ کی حوالگی کامعاملہ، بچی کو عارضی کسٹڈی میں والدین کے حوالے کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے لڑکی کے اہم بیان کے بعد بچی کوعارضی کسٹڈی میں والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں کراچی سے اغوا ہونے والی مغویہ زہرا کاظمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ لڑکی کے والدین سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے اور مغویہ زہرا کاظمی کو پولیس کی سخت سیکیورٹی میں عدالت پہنچا دیا گیا۔

عدالت میں مبینہ مغویہ کی حوالگی سے متعلق والدین کی درخواست کی سماعت کے دوران زہرا کاظمی کے شوہرظہیراحمد بھی وکیل کے ہمرا پیش ہوئے۔

ظہیراحمد کے وکیل نے کہا کہ لڑکی کی حوالگی کی درخواست قابل سماعت نہیں۔ یہی درخواست جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت سے مسترد ہوچکی ہے۔

وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ لڑکی حوالگی کی درخواست اب فیملی کورٹ میں زیرالتوا ہے۔ جب تک فیملی کورٹ فیصلہ نہ کرے۔ ہائی کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔

وکیل ظہراحمد نے دلائل دیے کہ لڑکی کو عدالتی حکم پر شیلٹر ہوم بھیجا گیا ہے۔ لڑکی کو حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام بھی درست نہیں۔

مغویہ لڑکی کا اہم بیان ریکارڈ

سماعت کے دوران عدالت نے لڑکی سے پوچھا آپ کا نام کیا ہے جس پرلڑکی نے جواب دیا کہ دعائے زہرا نام ہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے پوچھا آپ پڑھتی ہیں؟ لڑکی نے جواب دیا کہ کورونا کی وجہ سے تعلیم رک گئی تھی، ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی۔

عدالت پوچھا آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟ جس پر لڑکی نے والدین کے ساتھ جانے کا بیان دے دیا، کہا کہ میں بابا ماما کے ساتھ جانا چاہتی ہوں جس کے بعد عدالت نے بچی کی عارضی کسٹڈی والدین کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ بچی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ والدین 10 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرائیں۔ بچی کی مستقل حوالگی سے متعلق فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔

عدالت نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر لیڈی پولیس کے ہمراہ ہر ہفتے والے دن بچی سے جا کر ملاقات کریں گی۔ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر بچی سے ملاقات کے بعد رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرائیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے بچی عارضی کسٹڈی سے متعلق درخواست نمٹادی۔

متعلقہ خبریں