اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ طورپراسلام آباد سے اغوا ہونے والی لڑکی کے تا حال بازیاب نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد سے مبینہ طورپراغوا ہونے والی لڑکی کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت آئی جی کی جانب سے لڑکی کی بازیابی کےلیے مزید وقت دینے کی استدعا کی گئی جسےعدالت نے منظورکر لیا تاہم عدالت نے حکم دیا کہ بارہ جنوری تک لڑکی کو بازیاب کروا لیا جائے۔
اسٹیٹ کونسل کے تاخیر پرعدالت میں پیش ہونے پربرہمی کا اظہارکرتے ہوئے جسٹس ثمن رفعت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ ایسا رویہ اپنایا تو اسٹیٹ کونسل پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
آئی جی اسلام آباد بولے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیشی افسر کراچی موجود ہیں جس پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ کو معلوم نہیں لاپتہ لڑکی پاکستان کے کس حصے میں موجود ہے؟
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ لڑکی کی تلاش جاری ہے، استدعا ہے کہ عدالت کچھ وقت دے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نےآئندہ سماعت پر لڑکی کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بارہ جنوری تک ملتوی کر دی۔
ڈی جی حج تعیناتی کیخلاف کیس میں انٹراکورٹ اپیل کا تحریری حکمنامہ
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈی جی حج کےعہدے پر مبینہ طور پر صنفی امتیاز کے معاملے پرڈی جی حج تعیناتی کیخلاف کیس میں انٹراکورٹ اپیل کا تحریری حکمنامہ جاری کیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی خاتون افسر کی درخواست پر بڑا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈی جی حج کی تاحکم ثانی عہدے پرتقرری روکے۔
تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ وزارت مذہبی امور اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ گیارہ جنوری تک جواب جمع کرائیں۔ آئندہ سماعت گیارہ جنوری تک ڈی جی حج کی تعیناتی کا عمل معطل رہےگا۔
چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تحریری حکمنامہ جاری کیا، سنگل بنچ نے 20گریڈ کی افسر صائمہ صبا کی درخواست مسترد کردی تھی۔
درخواست گزار نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر رکھی تھی۔
