Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عمران خان کوعہدے سے ہٹانے کا کیس، جسٹس جواد حسن کی فل بنچ بنانے کی سفارش

عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پرعدالت نے کیس کی مذید سماعت کےلیے فل بنچ بنانے کی سفارش کردی۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو پارٹی کی سربراہی کےعہدے سے ہٹانے کےلئے درخواست کی سماعت ہوئی۔

عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل دیے جبکہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب داخل کرنے کےلئے مہلت طلب کرلی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصراحمد نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی الیکشن کمیشن کے خلاف اسی نوعیت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

جسٹس جواد حسن نے کہا کہ درخواست گزار پنجاب کا رہنے والا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گذشتہ سماعت پر یہ معاملہ عدالت کےسامنے پیش ہوا تھا آپ یہاں موجود نہیں تھے۔

وکیل عمران خان نے دلائل دیے کہ عدالت کے سامنے اپنی درخواست میں تمام حقائق واضح کیے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے اسی کیس میں اپنا جواب جمع کرادیا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رائے شاہد سلیم خان نےایڈووکیٹ جنرل کا جواب جمع کرایا۔

عدالت نے اسی کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کو عدالتی معاونت کےلئے طلب کیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا جواب 15صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ تو عدالت ہے نہ ہی اس کو کسی کونااہل کرنے کا اختیار ہے۔ الیکشن کمیشن غیرقانونی اختیار استعمال کیا۔

جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کےلیے فل بنچ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کیس مزید سماعت کےلئے چیف جسٹس کوبھجوا دیا۔

عدالت نے سماعت 17جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی دو درخواستیں چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ کے پاس تھیں جنہیں واپس لیاگیا۔ ان درخواستوں کا فیصلہ دیکھا جانا ضروری ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رائےشاہد سلیم خان نے کہا فل بنچ کےعلم میں تھا کہ یہ اسی نوعیت کی درخواست سنگل بنچ کےپاس ہے۔ فل بنچ نے درخواستیں سنگل بنچ کےپاس ہونے کی بنا پر واپس کیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل کی درخواست مسترد کرنے کی فوری استدعا عدالت نے مسترد کردی۔

لاہورہائی کورٹ نےعمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کو کسی بھی کارروائی سے روکنے کے حکم میں بھی توسیع کردی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version