ممنوعہ فنڈنگ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
’’آئی کے کا کیا مطلب ہے؟‘‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کو خدشہ ہےعمران خان کو اس معاملے پر نااہل کر دیا جائے گا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئی کے کو نوٹس ہی نہیں کیا۔
عدالت نے پوچھا کہ آئی کے کا کیا مطلب ہے؟ جس کا وکیل انور منصور نے جواب دیا کہ میری مراد چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے وکیل انور منصور سے مکالمے میں کہا کہ آپ کے اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے۔ ہمارے لئے تو وہ درخواستگزارہی ہیں۔
وکیل پی ٹی آئی کی معذرت
وکیل انورمنصورنے عمران خان کیلئے آئی کے کی اصطلاح استعمال کرنے پرمعذرت کر لی اور کہا کہ کہنا یہ چاہتا ہوں عمران خان سے متعلق الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا۔ عمران خان اس کیس میں فریق تھے ہی نہیں فریق پی ٹی آئی بطور جماعت تھی۔ عمران خان سے متعلق فیصلہ دینے سے متعلق انہیں نوٹس ہونا چاہئے تھا۔ عمران خان کو الیکشن کمیشن نے نوٹس جاری ہی نہیں کیا تھا۔
عدالت کا الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال
جسٹس میاں گل حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ شوکاز تو آپ نے صرف فنڈز کی ضبطی پر دیا ہے، اس کے حتمی نتیجے میں صرف فنڈز ہی ضبط ہوں گے ناں؟
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ جی اس کارروائی کے حتمی نتیجے میں صرف فنڈز ہی ضبط ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ آپ کو کیا ضرورت محسوس ہوئی پھر معاملہ حکومت کو ریفر کرنے کی؟
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم ریگولیٹر ہیں ہمارے علم میں جو بات آئی وہ آگے بتائی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے کے آخر میں کہا گیا آفس کوئی بھی اور کارروائی بھی شروع کرے، اتنا اوپن آپ نے آخر میں یہ چھوڑ دیا ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو معاملہ بھیجا وہ آزادانہ طور پر دیکھیں گے۔ وفاقی حکومت ہمارا مؤقف ماننے کی پابند نہیں ہے۔ وفاقی حکومت تو پی ٹی آئی کو بھی سنے گی آگے بڑھنے سے پہلے۔
’’کس قانون کے تحت آپ نے معاملہ وفاقی حکومت کو ریفرکیا؟‘‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وفاقی حکومت آج کہہ دے پارٹی کیخلاف کارروائی کرنی تو کیا ہوگا؟
جسٹس میاں گل حسن نے پوچھا آپ کے پاس اختیار کیا تھا معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجنے کا؟ کس قانون کے تحت آپ نے معاملہ وفاقی حکومت کو ریفرکیا؟ یہ تو ایک جماعت کیخلاف اپنا زہر نکالنے جیسا ہوا کہ حکومت کو بھیج دیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ وفاقی حکومت کو معاملہ نہ بھی بھیجتے تو فرق نہیں پڑنا تھا۔ آپ تو رُولز کے تحت صرف فنڈز ضبط کرنے کی کارروائی کرسکتے تھے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ہم وفاقی حکومت کو نہ بھی معاملہ بھیجتے وہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ رپورٹ اب پبلک ہے اس پر باقی کوئی بھی کارروائی کرسکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ باقی کوئی کرے نہ کرے آپ کا کام تو نہیں تھا ناں؟ آپ نے تو صرف آئینی طور پراپنا کام کرنا تھا جو فندز ضبطگی تک محدود ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ نے ہولڈ کر دیا ایک بندے کیلئے وہ سچا نہیں، کل کوئی اس پر باسٹھ ون ایف کی کارروائی شروع کر دے تو کیا ہو گا؟ اس دوران پی ٹی آئی نے شوکاز کا کامیاب دفاع کر لیا تو کیا ہوگا؟
وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی نے دفاع کرلیا تو معاملہ خود ختم ہو جائے گا۔
تحریک انصاف کے وکیل انور منصور بولے کہ یہی میں کہہ رہا تھا جب دفاع کا حق باقی ہے تو اور کوئی کارروائی کیسے ہو سکتی ہے جس پروکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم اوپن مائنڈ کے ساتھ پی ٹی آئی کو شوکازمیں سنیں گے۔
وکیل انور منصور نے کہا کہ جس طرح سے الیکشن کمیشن میں کارروائی چل رہی ہے میں جانتا ہوں۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ سے آخری دو لائنیں حذف کردیں۔
’’آپ کیا چاہتے ہیں؟‘‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن آپ کو موقع دے رہا ہے تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے جن پوائنٹس پر آپ مطمئن کریں گے وہ چیزیں حذف کردیں گے۔ آپ دوبارہ فیصلے سے نہ مطمئن ہوئے تو آپ پھر عدالت آسکتے ہیں۔
وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن صرف فنڈنگ سے متعلق حذف کرنے کا کہتا ہے۔ میرا پوائنٹ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے قانون کی غلط تشریح کی۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ سے آخری دو لائنیں حذف کردیں۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے جن پوائنٹس پر آپ مطمئن کریں گے وہ چیزیں حذف کر دیں گے۔ آپ دوبارہ فیصلے سے نہ مطمئن ہوئے تو آپ پھر عدالت آسکتے ہیں۔
وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن صرف فنڈنگ سے متعلق حذف کرنے کا کہتا ہے۔ میرا پوائنٹ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے قانون کی غلط تشریح کی۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایک سادہ سی بات ہے جس پر کہانی چھ سال سے چل رہی ہے، ہرجماعت نے فنڈز کی تفصیل فراہم کرنی ہے، الیکشن کمیشن جہاں مطمئن نہ ہو شوکاز کرکے فندز ضبط ہوتے ہیں۔
’’الیکشن کمیشن آپ کو سننے کیلئے پھر تیار ہے‘‘
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ آپ کو تو اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ کے بعد بھی سنا گیا۔ اصولاً تو آپ کو شوکاز والا مرحلہ بھی پہلے ہی گزرچکا، ابھی الیکشن کمیشن آپ کو سننے کیلئے پھر تیار ہے۔ آپ کو آخری دو سطروں پر اعتراض ہے اسے ہم دیکھیں گے۔
وکیل انور منصور نے کہا کہ وکیل الیکشن الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے، الیکشن کمیشن نے کسی اور جماعت کی اسکروٹنی نہیں کی، جس طرح اسکروٹنی رپورٹ لکھی گئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
جسٹس میاں گل حسن نے پوچھا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کو مطمئن کردے فنڈز ممنوعہ نہیں تو کیا ہوگا؟ جس پرالیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اپنے فیصلے پر نظرثانی کا اختیارنہیں ہے۔
’’فندز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ تو بدلنا ہوگا‘‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا لہ تو پھر پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا مقصد کیا ہوا؟ آپ کے پاس فیصلہ بدلنے کا اختیار نہیں مگر نئے حقائق سامنے آجائیں تو؟ آپ کو پتہ چل جائے فندز ممنوعہ نہیں تو فیصلہ تو بدلنا ہوگا۔
جسٹس میاں گل حسن نے کہا کہ آج لگتا ہے الیکشن کمیشن کے وکیل نئی ہدایت لے کرآئے، آج انہیں بتایا گیا کہ عدالت کو کہیں ہم نے جو فیصلہ کر لیا اسی پر رہنا ہے۔
عدالت نے کہا کہ کیا مائی لارڈ جو کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن کا وہی فیصلہ ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ جی ہم اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کرسکتے جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پوچھا کہ پھر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟
عدالت نے کہا کہ پھر تو پی ٹی آئی کو ہم یہاں ہی سن لیتے ہیں الیکشن کمیشن کیخلاف۔ ہم یہ واضح کریں گے شوکاز کوئی بے مقصد نہیں بامقصد کارروائی ہے۔ اگر ہر حال میں پہلے فیصلے پر رہنا ہے تو شوکاز کا فائدہ نہیں۔
جسٹس بابرستارنے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمے میں کہا کہ کل آپ نے کہا آپ اپنے کلائنٹ الیکشن کمیشن کو مشورہ دیں گے۔ لگتا ایسا ہے انہوں نے آپ کو مشورہ دے کر بھیجا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا حتمی فیصلہ وہ ہوگا جو شوکاز کارروائی کے بعد ہوگا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
