ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کراچی کی حلقہ بندیاں درست کی جائیں۔
بیرسٹر فروغ نسیم نے کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں فیصل سبزواری، وسیم اختر اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم کراچی کے حقوق کی بات کررہے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت سندھ حکومت نے حلقہ بندیاں کیں۔
فروغ نسیم نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ووٹ بنک پر 90 ہزار کی یوسی بنائی گئی، جہاں ایم کیو ایم کا ووٹ نہیں وہاں تیس ہزارکی یوسی بنائی گئی۔ ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں پر دھاندلی کو چیلنج کیا۔ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت، الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کو کہا۔ ہائی کورٹ میں گئے تو عدالت نے کہا کہ آپ تاخیر سے آئے۔
انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی بنائی گئی یوسیز کی آبادی صحیح نہیں تھی۔ ایم کیو ایم نے حلقہ بندیوں کو چیلنج کیا۔ جون میں شنوائی ہوئی۔ ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو تین گنا کم کردیا گیا۔
بیرسٹرفروغ نسیم نے کہا کہ سندھ حکومت نے آئنی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کی حلقہ بندیاں درست کی جائیں۔ ماضی میں پی ٹی آئی ایم کیو ایم کے حلقہ بندیوں پراعتراضات کی تائید کرتی رہی ہیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ حلقہ بندیوں میں ایم کیو ایم کے ووٹرزکو ڈاؤن کیا گیا۔ عدالتی حکم پرسندھ حکومت کو قائل کرنے کی کوشش کی سندھ حکومت کو قائل کیا تو دس دن کا آرڈر پاس کیا گیا۔
انھوں نے مذید کہا کہ 31 دسمبر 2021 کو سندھ حکومت نے بہت سی یوسیز بنائی تھیں۔ جہاں ہمارا ایک ووٹر تھا وہاں دوسرے حلقے میں تین ووٹر تھے۔ مہاجر آبادی کے ووٹ تقیسم کرنے کی سازش کی گئی۔
اس موقع پررہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ الیکشن کا مطالبہ کرنے والوں نے جعلی مردم شماری پر کیا کیا؟ بینرز لگانے سے کوئی کراچی کا مئیر نہیں بن سکتا۔ جعلی مردم شماری پرعدالت اورالیکشن کمیشن کتنی بار گئے؟
فیصل سبزواری نے کہا کہ ناظم آباد کی آبادی زیادہ ہونے کے باوجود نشستیں کم ہیں جبکہ دیگرعلاقوں کی آبادی کم اورنشستیں زیادہ ہیں۔ متنازع مردم شماری پر صرف ایم کیو ایم نے آواز اٹھائی۔
انھوں نے مذید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کے بھائی، بہنوں کو درست گنا جائے، تین کروڑ کے شہر کو ڈیڑھ کروڑنہیں گنا جا سکتا اورکراچی کو آبادی کے لحاظ سے نوکریاں دی جائیں۔



















