ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی شہر بھر میں گیس غائب ہوگئی ہے جس کے بعد شہری گوالمنڈی چوک پر گیس کی عدم دستیابی پرسراپاِاحتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں گیس کی بندش کے خلاف مظاہرین نے ٹائر جلا کر سوئی سدرن گیس کمپنی کے خلاف احتجاج کیا۔
مشتعل مظاہرین کا کہنا ہے کہ گوالمنڈی چوک ،ترین روڈ ،پشتون درہ،پشتون آباد اورکاسی روڈ کے مکینوں کو جلد از جلد گیس فراہم کی جائے۔
ملک بھر میں گیس بحران میں کمی نہ آسکی سردی آتے ہی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے
ذرائع کی رپورٹ کے مطابق سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور، ملتان اور حیدر آباد سمیت ملک بھر میں گیس کا بحران مزید شدید ہوگیا ہے، جو گیس 24 گھنٹوں میں کچھ دیر کے لیے آتی تھی اب وہ بھی آنا بند ہو گئی۔
شہری گیس نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہےجبکہ سوئی ناردرن گیس حکام نے چپ سادھ لی ہےاور گیس کی قلت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
علاوہ ازیں اوکاڑہ اور دیگر مضافات میں گیس کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے، گیس پریشر نہ ہونے کے باعث خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہری کا کہنا ہے کہ رات کو دس بجے سے لیکر صبح پانچ بجے تک ہمارے گیس بند رہتی ہے، دن بھر گیس پریشر بالکل نہیں ہوتا بچے اسکول بھوکے جاتے ہیں۔
گیس بند ہونے کے بعد لکڑیوں اور گیس سلینڈر کی قیمتیں آسمان پر چلی گئی ہیں، لائنوں میں لگ کر لوگ سلینڈر بھروانے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں گیس کا بحران جاری، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا



















