ایف آئی اے سائبر کرائم کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 13 ماہ کے دوران چائلڈ پورنوگرافی کی 196 درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم نے بتایا کہ پنجاب میں 13 ماہ کے دوران چائلڈ پورنوگرافی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سب سے زیادہ درخواستیں ملتان سے موصول کی گئیں جن کی تعداد 154 ہے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ سے 19، لاہور سے 16 جبکہ فیصل آباد سے 6 درخواستیں موصول ہوئی جن میں سے ایف آئی اے سائبرکرائم نے 57 انکوائریزکو فائل کرلیا ہے۔
ایف آئی اے کی رپورٹ لاہور میں 22 مقدمات درج ہوئے جن میں سے 6 کے چالان مکمل کرکےعدالتوں میں بھجوادیئےگئے ہیں اوراب تک 19 افراد کو چائلڈ پورنوگرافی کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے 2 انکوائری فائل ہوئیں ہیں جبکہ 14 درخواستیں ابھی تک پینڈنگ میں پڑی ہیں جبکہ 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں صوبائی دارالحکومت میں 6 انکوائریز رپورٹ ہوئیں جن میں سے 2 مقدمات درج کئے گئے ہیں اور4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
ملتان میں 19 انکوائری میں سے 12 کے مقدمات درج کرلئے گئے ہیں جبکہ 5 کے چالان عدالتوں میں بھجوادیئے گئے ہیں اور4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
گوجرانوالہ میں بھی 16 انکوائریز میں سے 6 مقدمات درج کئے گئے جن میں سے1 کا چالان مکمل کردیا گیا ہے جبکہ 7 ملزمان کوگرفتارکرلیا گیا ہے۔



















