جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے فارم 11 کو دیکھنے کے لیئے 4 رکنی مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی اور جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے بعد پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
پی ٹی آئی رہنما علی حیدرزیدی نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے نام پر ڈراما سب نے دیکھا، الیکشن سےپہلے، دوران اور بعد میں بھی جماعت اسلامی کے ساتھ رابطہ تھا، سیاست میں اختلاف رائے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی نرسری ہوتی ہے، زرداری مافیا نے شہر میں تباہی کانظام چلایا ہوا ہے۔ زرداری مافیا نے کراچی کے لوگوں کیلئےایسا کچھ نہیں کیا کراچی کےلوگ انہیں ووٹ دیں۔
علی زیدی نے کہا کہ جماعت اسلامی کےساتھ 4 رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات میں جو کچھ ہوا اس کا جائزہ لینے کیلئےکمیٹی بنائی ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ آراو ز، ڈی آر اوز کے تقرر پر اعتراض سے الیکشن کمیشن کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا، حلقہ بندیوں پر ہمیں بھی تحفظات تھے، ہمیں بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ دیا۔ الیکشن میں جوکچھ ہوا اس کی شکایات الیکشن کمیشن کو بھیجی ہوئی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ فارم الیون کےمطابق جونتیجہ آیا، اس کو بدلنا شروع کردیاگیا، دوبارہ گنتی کےعمل میں بھی ہماری یوسیز کم کیا گیا، ضلع ملیرمیں دوبارہ گنتی کے عمل پرہمارے لوگ جمع ہوئے تو باقاعدہ حملہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ری کاؤنٹنگ کا پوراعمل پیپلزپارٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئےتھا، پی پی سےکہا ری کاؤنٹنگ کے عمل کوجب تک روکیں گے نہیں، بات نہیں ہوگی، جائز طریقے سے اگر پیپلزپارٹی جیتے تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔
جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر نے کہا کہ سب کےمینڈیٹ کا احترام، لیکن مینڈیٹ جائز ہوناچاہیے، جو بھی جیتا ہے اس کے مینڈیٹ کا تحفظ تمام سیاسی جماعتوں کی ذمے داری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ شہر میں اتفاق رائے پیدا کریں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پوزیشن ہے کہ ہم اپنا میئر بنائیں گے، شہر کی ترقی کیلئےسیاسی اتفاق رائے چاہتے ہیں، 2015 میں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا، پی ٹی آئی کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ بھی ہے۔
حافظ نعیم کا کہنا ہے مینڈیٹ کے تحفظ کیلیے مشترکہ چار رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے، ہم متفقہ میئرکی درخواست لےکرپی ٹی آئی کے پاس آئے ہیں، اگر جماعت اسلامی کا میئر بنے گا تو کوئی تنقید نہیں کی جائےگی؟ تہذیب کے دائرے میں رہ کر اختلاف کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چاہتا تھا ایم کیوایم بلدیاتی انتخابات لڑے، الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ ایم کیوایم کا اپنا تھا، ایم کیوایم نے آخر وقت تک کوشش کی الیکشن نہ ہو، ایم کیو ایم الیکشن سے بھاگنے کیلئےحلقہ بندیوں کی بات کررہی تھی۔ ہمارےاورپی ٹی آئی کےکارکنوں کے خلاف احتجاج کرنے قائم دہشتگردی کےدرج مقدمات ختم کیے جائیں۔
جماعتِ اسلامی کے وفد میں ڈاکٹر اسامہ، مسلم پرویز، سلیم اظہر بھی شامل تھے۔



















