بلدیاتی نظام کوسپریم کورٹ فیصلے کے مطابق با اختیار بنانے سے متعقل کیس میں عدالت اٹارنی جنرل آفس کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
تفسیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی اورایم کیو ایم پاکستان کی بلدیاتی نظام کو سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق با اختیار بنانے سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
جستس محمد اقبال کلہوڑو نے سماعت کرتے ہوئے پوچھا کہ ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات کو طلب کیا تھا کہاں ہیں وہ؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ نہیں معلوم کہ وہ کیوں نہیں آئے، اب تو الیکشن بھی ہوچکے۔
وکیل طارق منصور نے کہا کہ الیکشن سے ان درخواستوں کا کوئی تعلق نہیں جس پر جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ اٹارنی جنرل دفتر کو جواب کے لیے کہا گیا تھا۔
نمائندہ سندھ حکومت نے جواب دیا کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل یاسر شاہ کی طبعیت ناساز ہے جس پروکیل ایم کیو ایم پاکستان طارق منصور نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل آفس کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات کو بھی طلب کر لیا۔
وکیل ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ کیس کی سماعت جلدی رکھی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت پندرہ فروری کے لیے ملتوی کردی۔
طارق منصورایم کیو ایم پاکستان، ندیم احمد جماعت اسلامی کی جانب سے پیش ہوئے۔
ایم کیو ایم کی جانب سے کنور نوید جمیل نے اورجماعت اسلامی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمن نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔
درخواستوں میں مؤقف اپنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی نظام کو با اختیار بنانے کا حکم دیا، بلدیاتی نظام کو با اختیار بنائے بغیر الیکشن پروسس کیا گیا، سندھ حکومت کو بلدیاتی نظام باا ختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی ہدایت دی جائے۔
