رہنما تحریکِ انصاف فواد چوہدری کےکیس میں بڑی پیش رفت، سیشن جج نے فواد چوہدری کو طلب کرلیا۔
عدالت نے دن ساڑھے بارہ بجے فواد چوہدری کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ سیشن کورٹ اسلام آباد کی طرف سے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو آگاہ کردیا گیا۔
سیشن کورٹ سے اڈیالہ جیل فیکس کے ذریعے نوٹس فواد چوہدری کو بھیجوایا گیا۔ عدالت نے پولیس کی اپیل پر فواد چوہدری کو طلب کرتے ہوئے فواد چوہدری 12:30 بجے تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل سیشن جج سے سوال کیا کہ سر ہمیں مزید انتظار کرنا ہوگا؟ جس پرایڈیشنل سیشن جج نے جواب دیا کہ میں بھی تو ریکارڈ کا انتظار کررہا ہوں۔
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم پھر پہلے سیشن کورٹ سے ہو آتے ہیں جس پرایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے کہا کہ آپ اس کو نمٹا کرہی آجائیں۔
اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینےسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
رہنما تحریکِ انصاف فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ مسترد ہونے کے فیصلے کے خلاف پولیس کی درخواست پر سیشن جج طاہر محمود خان نے سماعت کی۔
سماعت میں تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت کے سامنے پیش ہوئے، جج نے استفسار کیا کہ اس میں کیا ملزم کو عدالت کے سامنے فزیکل لانا ضروری ہے؟
پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہم نے فوٹو گرائیمٹری ٹیسٹ اور ریکوریز کرنی ہیں جس پرجج طاہرمحمود خان نے استفسارکیا کہ دو دن میں آپ نے کیا کیا ہے؟
پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ وائس میچ کروایا ہے ایف آئی کو فرانزک کے لیے بھی لکھا ہے۔ لاہورسے گرفتاری کے بعد ہمیں یہاں سے رات بارہ بجے دو دن کا ریمانڈ ملا۔ عملی طور پر ہمیں ایک دن کا ریمانڈ ملا تھا تفتیش مکمل نہیں ہو سکی۔
فواد چوہدری کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان سیشن جج کے سامنے مؤقف پیش کیا کہ پولیس کی اپیل پرہمیں ابھی نوٹس نہیں ملا۔ ہم نے ضمانت کے لیے رجوع کررکھا ہے۔ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کو حکم دیں ہماری ضمانت کی درخواست سن لیں۔
وکیل بابراعوان نے کہا کہ حیران کن ہے تفتیشی افسر پیش نہیں ہورہا۔ دس بجے تفتیشی افسر کو بلایا گیا مگر وہ پھر بھی پیش نہیں ہوا، ساڑھے دس بجے اس معاملے کو دیکھتے ہیں۔ تفتیشی افسرعدالتی حکم کے باوجود پیش نہیں ہورہا۔
وکیل فواد چوہدری نے کہا کہ میں سینئرسپریم کورٹ کا وکیل ہوں صبح اٹھ بجے کا انتظارکر رہا ہوں۔ یہ تو بنانا رپبلک بن کررہ گیا ہے۔
کون پہلے، کون سا کیس سنے گا؟ فیصلہ نہ ہو سکا
لیگل ٹیم کے کبھی سیشن جج کی عدالت تو کبھی ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے چکر، کون پہلے، کون سا کیس سنے گا؟ فیصلہ نہ ہو سکا۔
رہنما تحریکِ انصاف کے وکیل ڈاکٹربابراعوان ایک بار پھر ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں پہنچ گئے۔ ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کمرہ عدالت میں آ گئے۔
سماعت کے دوران وکیل بابر اعوان نے کہا کہ اس طرح نظام کی بے توقیری 40 برس میں نہیں دیکھی، پولیس کی جانب سے عدالت کی بے توقیری کی جارہی ہے۔ پولیس کی اس بے توقیری کو روکنا ہوگا۔ جب ہمیں نوٹس نہیں ملا تو پولیس کی نظرثانی پہلے کیسے سنی جا سکتی ہے؟
ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے کہا کہ میرے سامنے ضمانت ہے، میں اپنے آپ کو ضمانت تک محدود رکھوں گا۔ ریکارڈ کے آنے تک کیسے کیس سن سکتا ہوں؟
عدالت نے سوال کیا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے کون پیش ہورہا ہے؟جس پر وکیل فواد چوہدری نے جواب دیا کہ پراسیکیوشن اور الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس ہو چکا ہے۔
ادھر فواد چوہدری کی جانب سے بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کو چیلنج کردیا گیا، مؤقف اپنایا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے جوڈیشل کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔
درخواست کے متن کے مطابق جوڈیشل کرنے کے بجائے مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔
فواد چوہدری اور پولیس کی اپیلیں ایک ساتھ سنی جائیں گی۔
