ذرائع کا کہنا ہے کہ اب سے کچھ دیر قبل اسلام آباد کےگردونواح اور مری میں زلزلےکے زوردار جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں جس سے شہری خوف ہراس میں مبتلا ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد اور مری سمیت ہری پور شہر کے گردونواح میں بھی شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.3 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اسکی گہرائی 150 کلو میٹر زیر زمین تھی تاہم زلزلےکا مرکز تاجکستان تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں زلزلوں کی تاریخ
بلوچستان کئی بار زلزلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے اور صوبے میں زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی سنہ انیس سو پینتیس میں آنے والے زلزلے میں ہوئی تھی۔
اس زلزلے نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کو تباہ کر دیا تھا اور ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل سنہ اٹھارہ سو ستائیس اور انیس سو اکتیس کے درمیان بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نو مختلف زلزلے آئے۔
یہ رواں سال بلوچستان میں آنے والا دوسرا بڑا زلزلہ تھا۔ اس سے قبل سولہ اپریل کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں زلزلے سے 35 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے
پاکستان میں سال دو ہزار بارہ میں کوئی بڑا زلزلہ نہیں آیا تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لیکن ان کی شدت اتنی زیادہ نہیں تھی۔
اسی طرح جنوری دو ہزار گیارہ کو ملک کے جنوب مغربی علاقے میں سات اعشاریہ دو شدت کا زلزلہ آیا تاہم بہت گہرائی میں ہونے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
اس سے قبل 2008 میں اکتوبر کے مہینے میں بلوچستان ہی چھ اعشاریہ چار شدت کے زلزلے کا نشانہ بنا اور اس قدرتی آفت سے 300 افراد مارے گئے۔
پاکستان کی حالیہ تاریخ میں زلزلے میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو ہوا۔
شمالی علاقوں اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سات اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے سے 73000 افراد ہلاک ہوئے اور وسیع علاقے میں املاک کو نقصان پہنچا اور اب تک ان علاقوں میں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے سنہ دو ہزار دو میں بھی کشمیر کے علاقے میں زلزلے آئے تھے۔ دو ہزار دو میں ہی نومبر کے مہینے میں گلگت کا علاقہ تین مرتبہ زلزلوں کا نشانہ بنا تھا۔
بیس نومبر سنہ دو ہزار دو کو گلگت میں آنے والے زلزلے سے تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے اورگلگت اور استور میں لینڈ سلائیڈنگ سے پندرہ ہزار لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔
اس سے پہلے یکم اور تین نومبر کو بھی گلگت اور استور میں آنے والا زلزلے پشاور، اسلام آباد اور سری نگر تک محسوس کیے گئے۔ ان زلزلوں سے شاہراہ قراقرم بند ہوگئی تھی جبکہ کل اٹھارہ افراد ہلاک اور پینسٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
چھبیس جنوری سنہ دو ہزار ایک کو بھارتی صوبہ گجرات میں آنے والے زلزلے سے جنوبی پاکستان میں رن آف کچھ کا علاقہ متاثر ہوا جس سے بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ستائیس فروری انیس سو ستانوے میں بلوچستان میں ہرنائی کے مقام پر ایک بڑی شدت کا زلزلہ آیا جس سے کوئٹہ، ہرنائی اور سبی میں لینڈ سلائیڈنگ سے پچاس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ زلزلہ وسطی بلوچستان میں بھی محسوس کیا گیا تھا۔
اکتیس جنوری انیس سو اکیانوے کو کوہ ہندوکش میں آنے والے زلزلے سے پاکستان کے شمالی علاقوں خصوصا چترال میں تین سو سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
تیس دسمبر انیس سو تراسی کو کوہ ہندوکش میں ایک بڑے زلزلہ سے شمالی پاکستان میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ 1974 میں دسمبر کے ہی مہینے میں مالاکنڈ کے شمال مشرق میں آنے والے زلزلہ پانچ ہزار سے زیادہ افراد کی جان جانے کا سبب بنا۔



















