Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مبینہ زہریلی گیس سے اموات؛ فیکٹری مالک کے جسمانی ریمانڈمیں 5 روز کی توسیع 

مبینہ زہریلی گیس سے اموات کے معاملے میں کراچی کی مقامی عدالت نے فیکٹری کے مالک کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روزکی توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کی عدالت میں علی احمد گوٹھ میں مبینہ زہریلی گیس سے اموات کے معاملے پرسماعت ہوئی۔

جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے گرفتار پلاسٹک فیکٹری کے مالک خیر محمد کو عدالت میں پیش کر دیا جہاں عدالت نے ملزم کی جسمانی ریمانڈ 5 روز تک توسیع کردی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی، تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم پلاسٹک ری سائیکلنگ فیکٹری چلاتا ہے۔ ملزمان کے پاس نہ کوئی اتھارٹی لیٹر ہے نہ ہی لائسنس۔

عدالت نے تفتیشی افسرسے استفسار کیا کہ آپ نے اب تک کیا تفتیش کی ہے؟ جس پرتفتیشی افسر نے جواب دیا کہ فیکٹری ڈپٹی کمشنر نے سیل کردی ہیں، موقع کا معائنہ نہیں ہوسکا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ساجد چانگ پوچھا کہ میڈیکل رپورٹ حاصل کی ہے آپ نے؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ہم نے محکمہ صحت کو خط لکھا ہے۔

عدالت نے کہا کہ مطلب اتنے روز گزرجانے کے باوجود آپ ابھی تک خط و کتابت پرہیں؟

پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرین نے الزام عائد کیا کہ فیکٹری کے زہریلے دھویں کی وجہ سے اموات ہوئیں جب کہ وکیل ملزم منور علی لاکھیرنے مؤقف پیش کیا کہ خیرمحمد کے پاس کوئی فیکٹری نہیں گودام ہے، جوبچے مرے وہ خسرے کی وجہ سے مرے ہیں۔

مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ ملزمان بغیراحتیاطی تدابیر کے پلاسٹ ری سائیکلنگ کی فیکٹریاں چلاتے ہیں جب کہ ملزم نے بتایا کہ میں پلاٹس کی تھیلوں کے ری سائکلنگ کا کام کرتا ہوں، اگرکوئی زہریلی چیز ہوتی تو میرے مزدور کیوں نہیں مرے۔

ملزم نے دعویٰ کیا کہ اموات خسرے کی وجہ سے ہوئی ہیں، گیس یا کیمیکل کی وجہ سے نہیں جب کہ مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ فیکٹریوں سے مضر صحت دھواں خارج ہونے سے گاؤں والے لوگ بیمار ہوئے۔ مضر صحت دھواں اور زہریلی گیس کے اخراج سے اموات ہوئیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version