اقلیتوں کے حقوق کےمنافی نصاب ترتیب دینے سے متعلق کیس میں وفاق نے عدالت میں جواب جمع کرا دیا۔
لاہورہائی کورٹ میں یکساں نصاب تعلیم میں امتیازی سلوک برتنے اوراقلیتوں کےحقوق کےمنافی نصاب ترتیب دینے کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرادیا گیا جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ قومی ہم آہنگی اور اسلامی تشخص کے فروغ کےلئے یکساں نصاب تعلیم رائج کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ عدالت یکساں نصاب تعلیم کےخلاف درخواستیں مسترد کرے جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلاء کو دلائل کے لئے طلب کرلیا۔
جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کی جبکہ درخواست گزارمریم کے وکیل احمد پنسوتہ نے دلائل دیے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصرگھمن نے وفاقی حکومت کا جواب عدالت میں جمع کرایا۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا گیا کہ یکساں نصاب تعلیم میں خواتین اورمرد کی تفریق کی گئی۔ اقلیتوں سے متعلق تاریخی واقعات میں ان کےنام بدل دئیے گئےجوبنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت بنیادی حقوق سے متصادم نصاب تعلیم میں ہونے والی نصابی تبدیلیوں کو کالعدم قرار دے۔
