اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی پولیس طلبی کا نوٹس معطل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کی تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کی طرف سے جاری سمن کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی، سماعت کے دوران شیخ رشید کے وکیل نے مدعی کی جانب سے پولیس کی دی درخواست پڑھ کرسنائی۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے پوچھا کہ درخواست مدعی ایس ایس پی کو کیسے دے رہا ہے؟ مدعی کی جانب سے اندراج مقدمہ کی درخواست ایس ایچ او کو ہوتی ہے۔
وکیل شیخ رشید نے جواب دیا کہ ہم ہر روز عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں اور سیکھتے ہیں، پولیس نے اس کیس میں جو طریقہ اپنایا بالکل خلاف قانون ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیخ رشید کو آبپارہ پولیس کی طرف سے جاری طلبی کے نوٹس کو معطل قراردے دیا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شیخ رشید کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کیس کی سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کردی۔
عدالت نے اسلام آباد پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد عدالت پیشی کے لیے کوئی سینئرآفیسرمقررکریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیخ رشید کی اسلام آباد پولیس کی طرف سے طلبی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقررکی تھی۔ شیخ رشید نے تھانہ آبپارہ کی طرف سے طلبی کے سمن کو چیلنج کیا تھا۔ عمران خان کے قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق بیان پر شیخ رشید کو سمن جاری کیا گیا۔
