Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عمران خان  جیل بھرو تحریک پر جلد یو ٹرن لیں گے ، شرجیل میمن

شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عمران خان  جیل بھرو تحریک پر جلد یو ٹرن لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے عمران خان کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور اس کے حواری جیل بھرو نہیں بلکہ جیب بھرو تحریک کے ماہر ہیں ، عمران خان کو سندھ میں گرفتاری دینے کی پیش کش کرتے ہیں ، لانڈھی جیل میں ان کی خوب خاطر توازہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نیازی نے شوکت خانم کے چندے کے پیسوں کو نہیں چھوڑا ، گندم ، ادویات ، تیل اور چینی اسکینڈلز سے عمران خان اور ان کے گوگوں اور گوگیوں نے اپنی جیبیں بھریں۔

شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ عمران خان نے عدالت میں خود اعتراف کیا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کے 30 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری میں استعمال کئے ، حد یہ کہ کہتا ہے کہ اس کے ذمہ دار شوکت خانم ٹرسٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر عاید ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کے حالات کا ذمہ دار کوئی اور نہیں عمران خان ہے، پونے چار سالہ دور میں پاکستان کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ، مخالفین کو نشانہ بنانے پر صرف کئے۔

شرجیل انعام میمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ عمران خان نے کیا جس پر بعد میں یو ٹرن لیا ، موجودہ مخلوط حکومت عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدوں پر عملدرآمد کروا رہی ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ عمران خان آج بھی لاڈلا بنا ہوا ہے ، عدالتوں میں ان کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیس موجود ہیں ، ان پر میرٹ پر فیصلے آجائیں تو عمران خان اور ان کا سارہ ٹبر نا اہل ہو جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان  جیل بھرو تحریک پر جلد یو ٹرن لیں گے کیونکہ یہ لوگ ایک دن جیل جاتے ہیں تو رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔

 وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ عمران خان غیر سیاسی دماغ ہیں ، اعلان پہلے کردیتے ہیں اور سوچتے بعد میں ہیں ، عمران خان میں ہمت ہے تو سب سے پہلے خود گرفتاری پیش کریں۔

واضح رہے اس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بہت نازک موڑ  پر آکر کھڑا ہوگیا ہے، اگر درست فیصلے نہ کیے گئے تو ملک کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ خوشحال ممالک میں صرف قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، عدالتوں کا کام کمزور  اور طاقتور کو ایک ساتھ رکھنا ہوتا ہے، طاقتور ہمیشہ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتےہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں انصاف ہوتا ہے وہاں معاشرہ ترقی کرتا ہے اور جہاں کمزور پر تشدد ہوتا ہے وہاں صرف تباہی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسہ بچانےکے لیے قانون پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے، یہ لوگ چاہتےہیں کہ کسی طرح صرف پیسہ بچ جائے۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان لوگوں کو خطرہ ہے کہ عمران خان اقتدار میں نہ آجائے، ان لوگوں کو پتہ ہے کہ عمران خان اقتدار میں آیا تو این آر او ختم ہوجائےگا۔

انہوں نے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں وہاں جمہوریت نہیں، ان کو آزاد عدلیہ سے خوف تھا، اپنی عدلیہ کو قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہماری تمام امیدیں عدلیہ سے جڑی ہوئی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ مجھے اقتدار میں آنے سے روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، قوم کو کہتا ہوں تیاری کرلیں یہ لوگ پھر عدلیہ پر دباو ڈالیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 90 دن میں انتخابات نہ ہوئے تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی اور اگر انتخابات نہیں ہوتے تو نگران حکومتوں کی کوئی حیثیت نہیں رہےگی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن سے یہ ڈرے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی  دور میں یہ لوگ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے، نوازشریف کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور اب نوازشریف کی شرط ہے کہ پہلے عمران خان کو نااہل کرو اور جیل بھیجو۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مزید کہا کہ آئین کی حفاظت کیلئے پوری قوم عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے، جب یہ لوگ سمجھیں گے گراونڈ تیار ہےاس وقت الیکشن کرائیں گے لیکن اگر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے تو جلد الیکشن کرانے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں