لاہورہائی کورٹ نے پنجاب کی نگراں حکومت کے انیس تعینات کردہ لا افسروں کی تعیناتی غیر قانونی قراردے دی۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں پنجاب میں لا افسروں کی برطرفیوں کے کیس میں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس سمیت 97 لاء افسروں کی برطرفیوں کو درست قرار دے دیا۔
عدالتِ عالیہ نے سابق وزیراعلٰی پنجاب حمزہ شہباز کے دورمیں تعینات 19 لاء افسروں کی دوبارہ تعیناتی خلاف قانون قراردیتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے فیصلہ سنایا۔
لاہورہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
آج ہونے والی سماعت میں پنجاب حکومت کے وکیل منصوراعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل حکومت کی مشاورت کےمطابق کام کرنے کاپابند ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پرنسپل لاء افسر ہے جو خود سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے وکیل عابد زبیری بھی عدالت پیش ہوئے جب کہ الیکشن کمیشن کے وکیل شہزادہ مظہر نے عدالت میں تحریری جواب جمع کرایا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، لا افسروں اور خودمختار اداروں کے سربراہوں کی برطرفیوں سے متعلق کیس کو عدالتِ عالیہ نے سماعت کے لیے مقرر کیا تھا جس کے بعد جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کا پانچ رکنی لارجربنچ تشکیل دیا گیا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اورلا افسروں نے نگران حکومت کی جانب سے اپنی برطرفیوں کوچیلنج کیا گیا تھا جبکہ خود مختاراداروں کے سربراہوں اور بورڈز ارکان نے بھی اپنی برطرفیوں کو چیلنج کررکھا تھا۔
