چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کےلئے مقرر کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا انتخابی شیڈول جاری نہ کرنے کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کےلئے مقرر کردی گئی۔ جسٹس جواد حسن 15 فروری کوکیس کی سماعت کریں گے۔
توہین عدالت کی درخواست ووٹر شبیر اسماعیل نے اپنے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دیا۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدلتی حکم پرعمل درآمد کرنے کے بجائے وقت گزاری کی جارہی ہے، 12 فروری کو 12 بج کر 10 منٹ سے پہلےعدالتی حکم پر عمل کرنا قانونی تقاضا تھا، اس اوقات کار کےبعد عدالتی حکم پرعمل درآمد کی معیاد ختم ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں؛ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا تعین نہ ہوسکا
درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن شیڈول جاری کرنا آئینی تقاضا ہے، گورنر پنجاب نے انتخابی تاریخ دینے سے معذرت کرلی، الیکشن کمیشن بھی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔
درخواست گزار نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی حکم کے باوجود انتخابی شیڈول جاری نہ کرکے توہین عدالت کی، عدالتی حکم نظرانداز کرنے پر عدالت الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کےخلاف توہین عدالت کاروائی کرے۔
اس سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان اور سیکریٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں مشاورتی اجلاس گورنر ہاوس میں منعقد ہوا۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اجلاس میں بریفنگ دی کہ ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ الیکشن کمیشن گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد فوری تاریخ کا اعلان کرے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا کہ آئین کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 روز کے اندر الیکشن ہوں۔ آئین کا آرٹیکل 220 وفاقی اور صوبائی اداروں کو الیکشن کمیشن کی معاونت کا پابند کرتا ہے۔



















