لاہور ہائی کورٹ نے خود مختاراداروں کےافسروں کی برطرفیوں کےحوالے سے ایڈووکیٹ جنرل کو دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں پنجاب بھر میں افسروں اور اسسٹنٹ کمشنرز کےتبادلوں کےنگران حکومت کےاقدام کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔
دوران سماعت خود مختاراداروں اور ٹینیورپوسٹ پر تعینات افسروں کی برفرفیوں اور تبادلوں پرعدالت نے اظہار برہمی کیا اورایڈووکیٹ جنرل کو افسران کی برطرفیوں کے حوالے سے دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا۔
سرکاری وکیل نے بےبتایا کہ نگران حکومت نے انفارمیشن کمشنر پنجاب کی برطرفی کا نوٹیفیکیشن واپس لےلیا۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کی مشاورت سے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، عدالت نے کہا کہ ایک ہی دن میں تبادلے کی منظوری کے نوٹیفکیشن پر عدالت کےتحفظات دور کیے جائیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 20فروری تک ملتوی کردی، سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق اور دیگر وکلا نے دلائل دیے۔
وکیل درخواست گزارنے مؤقف اپنایا کہ نگران حکومت نے غیر قانونی اقدام کرتے ہوئے پنجاب بھر میں افسروں اور اسسٹنٹ کمشنرز کےتبادلے کردیے۔
وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ نگران حکومت نے خودمختار اداروں کےافسروں کو قانونی جواز کےبغیر برطرف کردیا۔ نگران حکومت کو تقروتبادلوں کا کوئی آئینی اور قانونی اختیار حاصل نہیں۔
درخواست گزارکی جانب سے مؤقف پیش کیا گیا کہ نگران حکومت کا کام انتخابات کرانے کےلئے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا یے۔ قانون کےتحت ٹینیور پوسٹ پرموجود افسروں کو عہدے کی معیاد مکمل ہونے تک ٹرانسفر نہیں کیاجاسکتا۔
درخواست میں کہا گیا کہ افسروں کےتبادلوں سے عام سائلین اور شہریوں کو مشکلات کا سامناہے۔ نگران حکومت نے سیاسی مفادات کےلئے افسروں کےتبادلے کرکےغیرقانونی اقدام کیا۔ استدعا ہے کہ عدالت افسروں اوراسسٹنٹ کمشنرزکےلیے تبادلوں کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔
