وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعتراف کیا ہے کہ ملک دیوالیہ ہوچکا ہے اور ہم ایک دیوالیہ ملک میں رہائش پذیر ہیں۔
سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں قانون اورآئین نام کی کوئی چیزنہیں، ملکی حالات کے ذمے دار اسٹیبلشمنٹ، بیورو کریسی اور سیاستدان ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے اور ہم ایک دیوالیہ ملک میں رہ رہے ہیں جب کہ ملکی مسائل کا حل آئی ایم ایف کے پاس نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر ہی ہے، مستحکم ہونے کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم قرض حاصل کرنے کے لیے منتیں کررہے ہیں مگراپنے وسائل سے فائدہ اٹھانے سے انکاری ہیں، اشرافیہ نے درجنوں گالف کلب بنا رکھے ہیں، دوکلب بیچ کر دوچوتھائی قرضہ اترجائے گا۔
یہ بھی پڑھیں؛ ملک ٹیکنیکلی طور پر ڈیفالٹ ہوگیا صرف اعلان کرنا باقی ہے، شیخ رشید
سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ڈیڑھ دو سال قبل دہشت گردوں کو خود یہاں لاکر بسایا گیا، نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی ہمارا مقدر بن گئی ہے اور اس پر جس نے آواز اٹھانے کی کوشش کی، اسے ملک سے نکال دیا گیا۔
کراچی میں پولیس آفس پر حملے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے کے پی او پر حملے کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بتیس سال ملک کو رسواہوتے دیکھا ۔ اگر کسی نے اس پر آواز بلند کی تو اس کو جلاوطن کردیا گیا۔



















