سراج الحق نے کہا ہے کہ سانحہ بارکھان پر ہر پاکستانی کا دل دکھی اور غمگین ہے
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ انسانیت کو شرما دینے والے سانحہ بارکھان پر ہر پاکستانی کا دل دکھی اور غمگین ہے، صوبائی، وفاقی حکومت اور اداروں کے پاس ماں کو بچوں سمیت بچانے کا موقع تھا لیکن انتہائی بےحسی کا مظاہرہ کیا گیا۔
انسانیت کو شرما دینے والے سانحہ بارکھان پر ہر پاکستانی کا دل دکھی اور غمگین ہے۔ صوبائی، وفاقی حکومت اور اداروں کے پاس ماں کو بچوں سمیت بچانے کا موقع تھا لیکن انتہائی بےحسی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس سے زیادہ افسوسناک معاملہ یہ ہےکہ باقی بچوں کو بازیاب کروانے کےلیے کچھ نہیں کیا جا رہا
— Siraj ul Haq (@SirajOfficial) February 22, 2023
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ اس سے زیادہ افسوسناک معاملہ یہ ہے کہ باقی بچوں کو بازیاب کروانے کےلیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔
عمران خان کا بارکھان واقعہ کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پر اپنے ایک پیغام میں سابق وزیراعظم عمران خان نے بارکھان واقعہ کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی نجی جیل میں بلوچستان کے کھیتران میں ایک غریب بلوچ خاتون اور اس کے بچوں کو غیر قانونی قید، جسمانی زیادتی اور قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں ۔
Strongly condemn illegal incarceration, physical abuse & killing of a poor Baloch woman & her children in Khetran, Balochistan in private jail of Sardar Abdul Rehman Khetran, a prov minister. Immediate action must be taken against this law of the jungle.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 22, 2023
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں ملیں جن کی شناخت خان محمد مری نامی شخص کی اہلیہ اور دو بیٹوں کی حیثیت سے ہوگئی۔ تینوں کو فائرنگ سے قتل کرکے لاشیں کنویں میں پھینکی گئیں۔۔ خاتون کے چہرے پر تیزاب ڈال کر مسخ بھی کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بیٹوں کی رہائی کے لیے دہائی دینے والی ماں گراناز نے قرآن ہاتھ میں لے کر صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران پر دوبیٹوں کونجی جیل میں قید کرنے کا الزام عائد کیا تھا تاہم صوبائی وزیر کے ظلم کی دہائیاں دیتی گراناز کو انصاف تو نہ مل سکا مگر مغوی بیٹوں سمیت دردناک موت ضرور مل گئی۔
یہ بھی پڑھیں؛ بارکھان میں 3 افراد کے قتل کا معاملہ؛ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دیدی
اس حوالے سے خان محمد مری کا کہنا ہے کہ لاشیں ان کی اہلیہ گراناز اور بیٹوں محمد نوازاورعبدالقادر کی ہیں جو 2019 سے سردار عبدالرحمان کھیتران کے نجی جیل میں قید تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے خاندان کے مزید 5 افراد اب بھی سردار عبدالرحمان کھیتران کے جیل میں قید ہیں، ظلم کے خلاف کوئٹہ میں مری قبیلے نے لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔
اس حوالے سے سردار عبدالرحمان نے اپنے بیٹے انعام کھیتران پرسازش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وقوعہ ان کے گھر سے 2 کلومیٹر دور رونما ہوا۔ الیکشن سے پہلے انہیں پھنسانے کی سازش کی جارہی ہے۔
جے آئی ٹی تشکیل
حکومت بلوچستان نے معاملے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ، جے آئی ٹی 30 دن میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔
اس حوالے سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق جےآئی ٹی، ڈی آئی جی پولیس لورالائی رینج کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے، جے آئی ٹی میں ایس ایس پی انوiسٹی گیشن کوئٹہ، اسپیشل برانچ بارکھان کا نمائندہ اور ڈپٹی کمشنر بارکھان بطور ممبر شامل ہوں گے۔
ابتدائی رپورٹ
ادھر ڈی آئی جی لورالائی نے بارکھان واقعہ کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ آئی جی بلوچستان پولیس کو بھجوادی۔ جس میں کہا گیا کہ لاشیں ضلع بارکھان کےعلاقے سوئمن میں غیر آباد کنویں سے برآمد کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق تینوں لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، قانونی کارروائی کے بعد لاشوں کو عبدالقیوم بجارانی مری کے حوالے کیا گیا، عبدالقیوم نے پولیس کو بتایا ہے کہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کی جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عبدالقیوم بجارانی کے مطابق خان محمد مری نے 18 جنوری کو ایک درخواست دی تھی، درخواست میں موقف تھا کہ اس کی بیوی اور بچے سردار عبدالرحمن کھیتران کے نجی جیل میں قید ہیں۔
ڈی آئی جی لورالائی کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کی ہر پہلو سےتحقیقات کی جارہی ہے ، حکام بالا کی ہدایت ہر پولیس نے مغویان کی بازیابی کیلئے تمام تر اقدامات اٹھائے، پولیس کو مغویان سے متعلق کوئی ٹھوس شواہد نہ مل سکے، لواحقین کی جانب سے مقدمہ درج ہونے پر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



















