سپریم کورٹ نے سندھ محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن سے خالی پوسٹوں سے متعلق جواب طلب کرلیا۔
تفصیلات کے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے سندھ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے خالی پوسٹوں سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ بتایا جائے کہ جب تعیناتیوں پر پابندی تھی تو بھرتیاں کیسے کی گئیں؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 2007 میں جو لوگ انٹرویو، ٹیسٹ اور دیگر مراحل پورے کر چکے تھے ان کو تعیناتی کیوں نہیں کی گئی؟
سیکریٹری محکمہ ایکسائز سندھ نے عدالت کو بتایا کہ اس دوران تعیناتیوں پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ 2007 میں پابندی تھی تو 2008 میں کیسے بھرتیاں ہو گئیں؟
سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سندھ نے بتایا کہ 2008 میں پابندی ہٹا دی گئی تھی، عدالت نے پھر استفسار کیا کہ 2008 میں پابندی ہٹنے پر2007 والوں کو بھرتی کیوں نہ کیا گیا؟ کیا پابندی کے صرف من پسند لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے ہٹائی گئی؟
وکیل درخواست گزارشمس لاڑک نے مؤقف اپنایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2011 میں ہی 2007 میں کوالیفائی کرنے والوں کو تعینات کرنے حکم دیا، سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی درخواست 12 سال سے سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بتایا جائے سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں کتنی پوسٹیں خالی ہیں؟ 2007 میں نوکریوں کے لیے تمام مراحل کلیئر کرنے والے تاحال عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔ ہم ریکارڈ طلب کر رہے ہیں پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔
سپریم کورٹ میں عبدالوحید، غلام شبیرملاح، بہادرخان، شکیل بھٹی اورندیم احمد سمو نے رجوع کررکھا ہے، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔
جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
