وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی پی ٹی آئی حکومت پر اعتماد کا مظہر ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے ضلع سٹی و یونین کونسل کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی لینڈ سلائیڈ کامیابی پر پی ٹی آئی کارکنان کو مبارکباد پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے 10 میں سے7 اضلاع میں چیئرمین ضلع کونسل پر کامیابی عمران خان کے نظریے کی جیت ہے، بلدیاتی انتخابات کے بعد خطہ میں ترقیاتی عمل تیز ہوگا۔
سردار تنویر الیاس خان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی پی ٹی آئی حکومت پر اعتماد کا مظہر ہے، میئرشپ میں بھی پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے کامیاب ہونے والے امیدواران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے کہ ویژن اور مشن کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے 32 سال بعد آزادکشمیر کے اندر بلدیاتی انتخاب کا انعقاد ممکن بنایا اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقل کیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ تمام نو منتخب چیرمین وائس چیئرمین میئر اور ڈپٹی میئرز کو کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، آزادکشمیر میں بنیادی مسائل کے حل کا واحد ذریعہ بلدیاتی ادارے ہیں، بلدیاتی ممبران ذمہ داریوں کا حلف اٹھانے کے بعد ان اداروں کی فعالیت کے لیے کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلدیاتی انتخاب کا انعقاد ہمارا انتخابی منشور کا وعدہ تھا جو ہم نے پورا کر دکھایا، تحریک انصاف کی حکومت عوامی امنگوں، تعمیر و ترقی ودیگر وعدے بھی اسی طرح پورے کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے طویل عرصہ بعد آزادکشمیر میں عوام کے اندر اپنے حقوق کا شعور اجاگر ہوا ہے اور نوجوان قیادت سامنے آئی سیاسی بصیرت اور آگہی نے خطہ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔
جماعتی کارکنوں کے نام اپنے پیغام میں سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ آج بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل ہو گیا ہے امید ہے نومنتخب ممبران عوامی اعتماد پرپورا ترنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان ہمارا اصل اثاثہ ہیں، بلدیاتی نظام جمہوریت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتا ہے اور اس نظام کی مضبوطی سے پارلیمانی جمہوری نظام کو تقویت ملے گی۔



















