Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایگزیکٹ کی آڑ میں دراصل بول نیوز کو نشانہ بنایا گیا، شعیب شیخ

بول کے شریک چیئرمین شعیب شیخ کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹ کی آڑ میں دراصل بول نیوز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

بول نیوز کے پروگرام تجزیہ میں میزبان سمیع ابراہیم کے ساتھ بات کرتے ہوئے بول کے شریک چیئرمین شعیب شیخ نے بتایا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا اور اس کے تانے بانے ایک چینل کے مالک سے جڑتے ہیں، جب یہ تسلیم کرلیاگیا کہ کوئی جرم ہوا ہی نہیں تو پھر ہمارے خلاف کیس کا کیا جواز ہے۔

شعیب شیخ کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹ کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن پوری دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو یہ بولے اس کے ساتھ دھوکا کیا گیا، اس کیس میں یہ مدعی بھی خود ہیں اور تفتیش کار بھی خود ہیں لیکن اس کے باوجود کئی سال بعد انہوں نے یہ خود تسلیم کیا کہ ایگزیکٹ کی تمام سرگرمیاں قانونی ہیں۔

شعیب شیخ نے کہا کہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایگزیکٹ جو کچھ کررہا ہے وہ قانونی ہے، ایگزیکٹ کے پاس ساری چیزوں کے تمام لائسنس موجود ہیں، ایگزیکٹ پاکستان سافٹ اویئر ایکسپورٹ بورڈ میں رجسٹرڈ تھا، ایگزیکٹ کے پاس اے سی سی پی کی رجسٹریشن تھی، ایگزیکٹ کا لائسنس اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رجسٹرڈ تھا اور اس کا جتنا پیسہ آیا وہ قانونی طریقے سے آیا، اور انہوں نے یہاں تک بتایا کہ ہم نے جو سارے گواہ پیش کیے وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں۔

شعیب شیخ نے کہا کہ مختصراً یہ تسلیم کیا گیا کہ کوئی جرم ہوا ہی نہیں لیکن اس کے باوجود کیس چل رہا ہے، دراصل ایگزیکٹ کو بہانہ بناکر بول کو نشانہ بنایا گیا۔

شعیب شیخ کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی اور اس میں اعتراف کیا گیا کہ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت کیا گیا جس کے تانے بانے ایک چینل کے مالک سے جڑتے ہیں اور ایک گواہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا۔

شعیب شیخ نے کہا کہ اس سازش کا اصل مقصد بول کو بولنے سے روکنا تھا جب کہ اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے بھی اعتراف کیا کہ اس وقت چند میڈیا مالکان ان کے پاس پہنچے تھے جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی جب کہ ایک آرٹیکل کی اشاعت کے بعد ظلم کی ایک داستان رقم کی گئی، سارے اکاؤنٹس فریز کردیے گئے اور گاڑیاں بند کردی گئیں۔

شعیب شیخ نے سوال اٹھایا کہ جب تفتیشی ادارہ تسلیم کرچکا کہ غیرقانونی کام نہیں ہوا تو اب یہ کیس کون چلارہا ہے؟ کون ہے جو بریت کے راستے میں رکاوٹ ہے، اسے ظلم  نہیں تو اور کیا کہا جائے؟ اگر کوئی جرم ہوا ہی نہ ہو تو بریت دی جائے تاکہ عدالتوں پر بوجھ کم ہو سپریم کورٹ کواپنے فیصلوں پر عمل کروانا ہوگا۔

بول کے شریک چیئرمین نے کہا آئی ٹی کمپنیز کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیا گیا تو ملک کیلئے زرمبادلہ کیسے جمع ہوسکے گا؟ اور بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوگا جب کہ کچھ اور آئی ٹی کمپنیز کے خلاف بھی  چھاپے مارے گئے، ان آئی ٹی کمپنیز کے ساتھ بھی یہ سلوک نہیں ہونا چاہئے تھا ۔۔ اس سے آئی ٹی بزنس میں کون آئے گا؟ یہ پاکستان کا نقصان ہے۔

شعیب شیخ کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے کیسز چلانے سے نہ صرف معذرت کرلی بلکہ انہیں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے بری بھی کر دیا گیا جب کہ ظلم کے ان تمام ضابطوں، انتقامی کارروائیوں اور اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بول ملک میں آئین کی پاسداری، قانون وانصاف کی علمداری، عدلیہ کی آزادی اور وطن عزیز کی خودمختاری کیلئے ڈٹ کر کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔

متعلقہ خبریں