پیمرا کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی تقریر اور بیانات چلانے پر پابندی کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے صدر لاہور ہائی کورٹ بار اشتیاق اے خان اور بیرسٹر احمد پنسوتا نے درخواست دائر کی، جس میں پیمرا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں موقف اپنایا کہ پیمرا نے عمران خان کے بیانات اور تقاریر نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کی ہے لیکن بیانات اور تقاریر پر پابندی لگانا بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ تقاریر پر پابندی آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان میں آزادی اظہار پر پابندی کو کبھی بھی شہریوں نے قبول نہیں کیا، آزادی اظہار پرپابندی سے افراتفری اور سیاسی ہیجان پیدا ہوگا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں اس قسم کی پابندی میں ملک افراتفری کا متحمل نہیں ہوسکتا، پیمراء کی جانب سے پابندی کا نوٹیفیکیشن غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ پیمراء کے 13 میں سے صرف 3 ممبران نے پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جب کہ پیمراء قانون کے تحت پابندی کے لئے کم از کم 5 ممبران کی منظوری قانونی تقاضا ہے، آئین پاکستان شہریوں کو آزادی اظہار کی اجازت دیتا ہے۔
استدعا کی گئی کہ درخواست گزار کے پاس عدالت کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں لہذا عدالت پیمرا کی جانب سے لگائی گئی پابندی فوری طور پر کالعدم قرار دے۔
خیال رہے کہ پیمرا نے گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بیانات اور تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 27 کے تحت یہ پابندی عائد کی گئی۔
پیمرا کے مطابق عمران خان اپنی تقاریر اور بیانات میں ریاستی اداروں پر متواتر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔
عمران خان اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے نفرت پھیلا رہے ہیں، عمران خان کے بیانات سے نقص امن کا خطرہ ہے، ان کی ریکارڈ شدہ یا براہ راست تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر پابندی ہوگی۔



















