چیف جسٹس پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت ہے کہ اختلافات کو دورکریں، امن و امان کے قیام سے ترقی کا راستہ بنتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عمارتوں کی نہیں فیصلوں کی اہمیت ہوتی ہے۔ قوموں کی تقدیرعدالتی فیصلوں سے نہیں قیادت سے بدلتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ اختلافات کو دور کریں۔ امن و امان کے قیام سے ترقی کا راستہ بنتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وسائل کے باوجود کیا مسائل ہیں کہ ترقی نہیں ہو رہی، ہمیں آئین کے مطابق فیصلے کرنے ہیں، بنیادی حقوق کا تحفظ عدالت کی ذمے داری ہے۔ ہمیشہ اپنے فیصلوں میں آئین کے نفاذ کی کوشش کی۔ قانون کی برتری سے ہی ملک ترقی کرتا ہے، سچائی اور دیانتداری کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بلوچستان میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنا اس کا حق بنتا ہے، بلوچستان میں اتنے وسائل ہونے کے باوجود کئی مسائل ہیں۔ ترقی نیت سے نہیں قربانیوں سے ہوتی ہے۔ قربانی سے، نیت سے اکھٹے ہوکر چلنے کا وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ یقین دلاتے ہیں کہ آئین کے مطابق اپنے فیصلے کرینگے، شہریوں کی حفاظت ریاست کی زمہ داری ہے۔ عوام کی خدمت ہم سب کا فرض ہے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بہت ضروری ہے۔ ارجنٹ ایپلی کیشن فارم بنایا تاکہ ایمرجنسی کیسزکو دیکھا جاسکے۔
چیف جسٹس پاکستان نے خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ میں 17 ججز ہیں، سپریم کورٹ میں قانون کے پوائنٹس طے کرتے ہیں۔ ویڈیو لنک کی سہولت سے استفادہ کرنا چاہیے، مجھے احساس ہے کہ کوئٹہ سے اسلام آباد کا خرچہ بہت ہے۔
انھوں نے مذید کہا کہ بہت وکیلوں کو جج بنا دیا گیا جو کہ خوشی کی بات ہے، 8 اگست 2016 ایک بہت بڑا سانحہ تھا،8 اگست کو وکلا نے بہت بڑی قربانی دی تھی، وکلاء کی قربانیوں پر ہمیں ناز ہے۔



















