Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

میری مہم تو گھر سے عدالت تک ہو کر رہ گئی ہے، عمران خان

لاہورہائی کورٹ میں زمان پارک پولیس آپریشن، نیب طلبی اور اسلام آباد میں درج مقدمات میں حفاظتی ضمانت کیلئے پیشی کے موقع پر عمران خان نے کہا کہ میری مہم تو گھر سے عدالت تک ہو کر رہ گئی ہے۔ 

لاہورہائی کورٹ آمد کے موقع پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا وکلا نے پرتپاک استقبال کیا۔ عمران خان کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

عمران خان حفاظتی ضمانت سے پہلے اہم درخواست پر سماعت کیلئے خود جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے۔

زمان پارک پرپولیس آپریشن کیخلاف توہین عدالت

لاہورہائی کورٹ میں عمران خان کی زمان پارک کے گھر پر پولیس آپریشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت میں عمران خان روسٹرم پرپیش ہوئے اورعدالت سے کہا کہ اسلام آباد پیشی کیلئے گیا، گھرپرپولیس نے دھاوابولا۔ پولیس نے میری رہائش گاہ پرجوکچھ کیا، ایساتاریخ میں نہیں ہوا۔

عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے چادرچاردیواری کاتقدس پامال کیا، نہتے کارکنوں کوتشددکانشانہ بنایا اوربلاجوازگرفتارکیا۔

عمران خان کے وکیل اظہرصدیق نے دلائل میں کہا کہ پولیس نے پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژکیا۔

دورانِ سماعت عدالت نے کہا کہ یہ گارڈز کس کے ہیں عمران خان کے ساتھ ۔ اگر پولیس کے ہیں تو ٹھیک اگر پرائیویٹ گارڈز ہیں تو باہر جائیں۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ سر یہ خان صاحب کی ذاتی سیکیورٹی ہے جس پرعدالت نے کہا کہ سیکیورٹی کے لیے پولیس اہلکار موجود ہیں۔ اس کے بعد عدالت کے حکم پر گارڈز باہر چلے گئے۔

عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ میری بیوی گھر میں تھی میرے گھر کے شیشے توڑے گئے، بیوی پردہ پوش خاتون ہیں ان کی چیخوں کی آواز کیمروں موجود ہیں۔ میرے پانچ گارڑز کو پکڑ کر لے گئے اور تشدد کیا ۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں جگہ جگہ روکاوٹیں لگا کر مجھے روکا گیا تاکہ عدالت نہ پہنچ سکوں۔ حکومت نے دنیا کو کیا پیغام دیا ہے۔ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، یہی پیغام دیا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے سرکاری وکیل کو زمان پارک آپریشن سے متعلق ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کی اور کہا کہ میڈیا پر بیٹھ کرجوعدلیہ کا مذاق بنا رہے ہیں ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کروں گا۔ اگر تمام فریقین نے عدلیہ کی عزت نہ کی تو پھر توہین عدالت کی کارروائی کروں گا۔

عدالت نے مقدمات کی تفصیل کے حوالے سے وفاق کے وکیل سے بیان حلفی طلب کرلیا اورکہا کہ مقدمات کی تفصیل کے لیے بیان حلفی ساتھ دیں۔ آپ دو دن میں تفصیل اکٹھی کرلیں اور ساتھ درخواست گزارکو ریلیف دیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ تاخیر بھی کریں اور ریلیف بھی نہ دیں۔

اسلام آباد میں درج مقدمات کا کیس

لاہورہائی کورٹ نے وفاقی وکیل کو کل تک عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات دینے کا حکم دیتے ہوئے عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کے تفصیلات کی فراہمی کے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے مقدمات کامکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی، عدالتی حکم پر درج مقدمات کاریکارڈ پیش کردیاگیا جس کے بعد عمران خان جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت سے روانہ ہوگئے اورحفاظتی ضمانت کےلیے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو پیش ہوئے۔ فوادچودھری بھی کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔

جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے عمران خان کی 2 مقدمات میں حفاظتی ضمانتیں 27مارچ تک منظورکرلیں۔

وکیل عمران خان نے کہا کہ عدالت نے حکم دیا تھا عمران خان وقت سے پہلے عدالت میں پہنچے۔

جسٹس شہباز رضوی نے کہا کہ درخواستوں پرعمران خان کے دستخط کرائیں جس کے بعد عمران خان نے درخواستوں پر دستخط کر دیے۔

جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ حلف نامے پربھی دستخط کرائیں جس کے بعد عمران خان نے حلف نامے بھی پر دستخط کر دیے۔

عدالت نے عمران خان کی 27 مارچ تک حفاظتی ضمانتیں منظور کرلیں۔

عمران خان نے تھانہ گولڑہ اور سی ٹی ڈی میں درج دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کےلئے عدالت سے رجوع کیا۔

عمران خان کی نیب کیسز میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت میں عدالت نے درخواستیں واپس کرتے ہوئے متعلقہ بنچ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

نیب میں طلبی کا معاملہ

جسٹس شہباز رضوی نے کہا کہ نیب کیسز کی سماعت کرنے والا بنچ موجود ہے۔ مناسب ہے یہ درخواستیں متعلقہ بنچ ہی سنے جس کے بعد عمران خان پیدل چل کر اپنی گاڑی سے عمران خان جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کےسامنے پیش ہوئے۔

عمران خان نے توشہ خانہ، اختیارات کےناجائز استعمال کی نیب انکوائریوں میں حفاظتی ضمانتیں دائر کی ہیں۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کرتے ہوئے نیب طلبی نوٹسز میں دس دن کےلئے عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستیں منظورکیں۔

عمران خان کی گفتگو

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ تیس اپریل کو الیکشن ہونے جارہے ہیں مگر اتنے مقدمات بن رہے ہیں کہ مہم کی فرصت نہیں مل رہی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میری مہم تو گھر سے عدالت تک ہوکررہ گئی ہے۔ اتنا وقت نہیں مل پاررہا کہ پارٹی امیدواروں کو ٹکٹ دے سکوں۔ میراسارا وقت وکلا سے مشاورت میں ہی گزرجاتا ہے۔

اس کے بعد عمران خان لاہور ہائی کورٹ سے روانہ ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version